Urdu book · تصویر ملت

اصل کام ابھی باقی ہے

Urdu book, p. 303

By Maulana Wahiduddin Khan

اس خام خیالی میں مبتلا ہے کہ حق تمام تر اس کی طرف ہے اور ناحق تمام تر دوسروں کی طرف ــــــــ اصحاب رسول اسلام کے ذریعہ آخرت کا انعام چاہتے تھے ، ان کے پیچھے چلنے والے آج اسلام کے ذریعہ دنیا کا انعام لینے کی کوشش میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتے ہیں۔ جہاں تک مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلق کا سوال ہے ، معاملہ اور بھی زیادہ نازک ہے مسلمان اور غیر مسلموں کے درمیان جو تعلق ہے وہ عام معنوں میں ایک قوم اور دوسری قوم کا تعلق نہیں ہے ، بلکہ داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ مگر دنیا بھر میں بے شمار اسلامی ہنگاموں کے باوجود مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ابھی تک داعی اور مدعو کا رشتہ قائم نہ ہو سکا۔ حالاں کہ اللہ کو ہم سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ یہی ہے مسلمان اس دنیا میں شاہد ہیں اور دوسری قومیں مشہود ۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ غیر مسلم قوموں کے سیاسی اور مادی حریف بنے ہوئے ہیں۔ جب تک ایسا نہ ہو کہ ایک داعی کے مقام پر کھڑا ہو اور دوسرا اپنے کو مدعو کے مقام پر پائے ، ہماری اسلامی سرگرمیوں کا نہ دہ فائدہ مل سکتا ہے جو قرآن میں بتایا گیا ہے اور نہ اس قسم کے اعمال آخرت کی عدالت میں ہم کو بری الذمہ کرنے والے ثابت ہو سکتے ہیں۔ دو آدمی باہم گالی گلوج کر رہے ہوں ، آپ ان کو شرافت اخلاق کی تلقین کرنے جائیں اور ان کے سر پر ایک بھاری پتھر پھینک دیں ، تو آپ کے لئے اس میں کچھ نہیں۔ کیوں کہ بظاہر اگرچہ گالی گلوج سے منع کرنے کا واقعہ پیش آیا۔ مگر آپ کے اور گالی دینے والے کے درمیان مصلح کا تعلق قائم نہیں ہوا۔ پھر خدا کے یہاں آپ کو اس سے کیا مل سکتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے غیر مسلموں کی نظر میں مسلمانوں کی حیثیت بس عام قوموں کی طرح ایک قوم کی ہے ۔ اور ایسا تصور قائم کرنے میں دہ حق بجانب ہیں۔ اسلامی شخصیاتیں اور اسلامی جماعتیں اپنی پڑوسی غیر مسلم قوموں کو اللہ کا پیغام پہنچانے کے لئے اپنے اندر کوئی رغبت نہیں پاتیں۔ البتہ مسلمانوں کے اوپر غیر مسلم قوموں کے ” مظالم“ کے خلاف احتجاجی بیانات جاری کرنے میں ہر ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ ان کی معاشیات یا سیاست کے کسی حصہ پر اگر غیر مسلموں نے قبضہ کر لیا تو وہ فوراً اس کے خلاف ایجی ٹیشن چلانے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ سوچ ان میں کبھی نہیں ابھرتی کہ اس قسم کے ہنگاموں کی وجہ سے غیر مسلم ہم کو اپنا دنیوی حریف سمجھ لیتے ہیں اور نتیجہ اسلامی تحریک ان کی نظر میں اخروی تحریک نہیں رہتی بلکہ ایک قسم کی دنیوی تحریک بن کر رہ جاتی ہے۔ کچھ مسلمان اسلام کو کلیاتی مجموعہ کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں۔ کچھ دوسرے مسلمان ہیں جو اسلام کو سیاسی احکام کے مجموعہ کی حیثیت سے سامنے لا رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے عام لوگوں کو اسلام یا تو دوسرے مذاہب کی طرح ایک رہی مذہب نظر آتا ہے یا کیمیوزم کی طرح ایک سیاسی مذہب ــــــــ قرآن کے مطابق ، مسلمان کا کام شہادت علی الناس ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم لوگوں کو جہنم سے ڈرانے والے اور جنت کی خوش خبری دینے والے بنیں۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ سیکولزم کے احیار سے لے کر اپنے حقوق کی بازیابی تک بے شمار کاموں کے لئے غیر مسلم قوموں سے دست دگریباں ہیں۔ مگر اسی ایک کام کے لئے نہیں اٹھتے جو اللہ نے اصلاً ان کے اوپر فرض کیا تھا۔ یہ غفلت اتنی بڑی ہے کہ اندیشہ ہے کہ مسلمان اللہ کی نظر میں بے قیمت ہو جائیں ۔ اور پھر نہ دنیا میں ان کو خدا کا سایہ حاصل ہو اور نہ آخرت میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page