کیسے عجیب لوگ
Urdu book, p. 305
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے اپنی موجودہ صورت حال سے مطابقت کرلی ہے۔ مگر وہ مطابقت اس طرح ہے کہ اپنی عظمت کا احساس بدستور انھیں حاصل ہے، وہ اس سے محروم نہیں ہوئے۔ انھوں نے ایسا کیا ہے کہ انھوں نے برطانی عظمت کو مغربی عظمت میں تبدیل کر لیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو بڑائی انھیں برطانیہ کی سطح پر حاصل نہیں ہے وہ آج بھی ان کو مغرب کی سطح پر حاصل ہے۔ ’’جب ہم خود بھی اسی مغرب کا حصہ ہیں تو ہم کو پریشان ہونے کی کیا ضرورت‘‘ برطانی قوم نے جب دیکھا کہ وہ اپنی عظمت کو انفرادی سطح پر قائم نہیں رکھ سکتے ہیں تو انھوں نے دوسروں کے ساتھ مل کر اپنی عظمت کو دوبارہ اجتماعی صورت میں حاصل کر لیا۔ دوسری طرف مسلم دنیا کا حال دیکھئے۔ پاکستان میں تقریباً ایک درجن بڑی بڑی اسلامی تنظیمیں اور جماعتیں ہیں۔ یہ تمام تنظیمیں اور جماعتیں پاکستان میں اسلامی نظام قائم کرنے کی علم بردار ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کم از کم دو بار ایسا ہوا ہے کہ یہ جماعتیں ’’متحدہ محاذ ‘‘ بناکر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئی ہیں۔ پہلی بار صدر ایوب خاں کو حکومت کے عہدہ سے ہٹانے کے لئے اور دوسری بار ذوالفقار علی بھٹو کو ہٹانے کے لئے جو اس وقت وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز تھے۔ دونوں بار یہ جماعتیں منفی مقصد میں کامیاب ہوگئیں۔ انھوں نے ایوب خاں کو بھی حکومت سے نکال دیا اور بھٹو کو بھی۔ مگر اس کے بعد جب وہ وقت آیا کہ پاکستان کی یہ اسلامی تنظیمیں اور جماعتیں مل کر اسلامی نظام قائم کریں اور ملک کو اسلامی تہذیب اور اسلامی سیاست کا نمونہ بنائیں تو تمام جماعتیں ایک دوسرے سے الگ ہوگئیں۔ اب ہر جماعت یہ چاہنے لگی کہ اس کو تنہا حکومت کی کری مل جائے کیونکہ یہ ممکن نہ تھا، ان میں سے کوئی بھی حکومت پر قبضہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ صدر ایوب کے ہٹنے کے بعد بھٹو نے حکومت پر قبضہ حاصل کر لیا اور وزیر اعظم بھٹو کے بعد جنرل ضیاء الحق نے۔ پاکستان کے ’’اسلام پسند‘‘ لیڈر اگر برطانیہ کے ’’کفر پسند‘‘ لیڈروں کی طرح ہوتے تو وہ اپنی قوم کے دوسرے ہم مذہبوں کی عظمت میں اپنی عظمت دیکھ لینے۔ اور پھر ایک دوسرے سے مل جاتے نہ کہ الگ الگ ہوکر اپنے آپ کو کمزور کرلیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ پاکستان میں وہ اسلامی نظام عملاً قائم ہوچکا ہوتا جس کے لئے ابھی تک وہاں صرف پر جوش الفاظ بولے جارہے ہیں جن لوگوں کے اندر کافرانہ نظام و تمام کرنے کی بھی صلاحیت نہیں وہ اسلامی نظام قائم کرنے کا نعرہ لگارہے ہیں۔ آسمان نے اس سے زیادہ عجیب منظر شاید کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader