Urdu book · تصویر ملت

إلحد

Urdu book, p. 308

By Maulana Wahiduddin Khan

الحاد قرآن میں گمراہی کی جو صورتیں بتائی گئی ہیں ان میں سے ایک الحاد ہے۔ الحاد کے معنی انحراف یا نشانے سے ہٹنے کے ہیں۔ عربی میں کہتے ہیں الحد السھم الهدف (تیر نشانے کے ایک جانب لگا) اسی مناسبت سے بغلی قبر کے لیے لحد یا ملحود کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں یہ مادہ چار مقام پر استعمال ہوا ہے ۔ ۱۔ سورہ اعراف میں ارشاد ہوا ہے کہ ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اللہ کے نام میں الحاد کرتے ہیں ۔ ( وذرو ا الذین یلحدون فی اسمائه ۔ ۱۸۰ ) خدا کے نام میں الحاد کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کو جسمانی نام دیئے جائیں۔ خدا نے خود اپنے کچھ نام بتائے ہیں۔ مثلاً رحمان، رحیم و غیرہ ۔ مگر جن لوگوں پر حمیت کا غلبہ ہو وہ خدا کو محسوس پیکر میں ڈھالنے کے لیے اس کا کوئی جسمانی نام رکھ لیتے ہیں ۔ قدیم عرب کے بڑے بڑے بت اسی اصول پر خدا کے جسمانی نام تھے ۔ انھوں نے خدا کے سچے ناموں میں " انحراف " کر کے کچھ نئے نام بنالیے اور خود ساختہ بتوں کو یہ نام دے کر کہا کہ یہ بت خدا سے الگ نہیں ہیں بلکہ اس کا محسوس اظہار ہیں : ای اتر کو ا الذین یمیلون في اسمانه یعنی ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اللہ کے ناموں میں حق تعالیٰ عن الحق كما فعل المشركون حيث سے انحراف کرتے ہیں۔ جیسا کہ عرب کے مشرکوں نے کیا۔ اشتقوا لآلھتهم اسماء منھا کا للات من انھوں نے خدا کے ناموں سے اپنے بتوں کے نام نکالے۔ الله والعزى من العزيزومناة من مثلاً لات اللہ سے اور عزیٰ عزیز سے اور منات المنان ( صفوۃ التفاسیر ) منات سے ۔ ۲۔ سورہ نحل میں الحاد کا لفظ ان لوگوں کے ذیل میں آیا ہے جو یہ کہتے تھے کہ قرآن خدا کا کلام نہیں ہے بلکہ محمد نے بعض عجمی غلاموں سے سیکھ کر اس کو تصنیف کر لیا ہے ( انھم یقولون انما یعلمہ بشر لسان الذي يلحدون اليه اعجمی و ھذا لسان عربی مبین ۔ ۱۰۳ ) یعنی وہ بات کو صحیح اور سچے رُخ سے موڑ کر غلط رُخ پر لے جا رہے ہیں ۔ جس کلام کو خدا کی طرف منسوب کرنا چاہیے اس کو انسان کی طرف منسوب کرتے ہیں ( و المعنی يميلون قولھم عن الصدق والاستقامۃ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page