نصیحت کے آداب
Urdu book, p. 331
By Maulana Wahiduddin Khan
میں دین کی تعلیم کرتے ہوئے اس قسم کے الفاظ آتے ہیں جو الفاظ آتے ہیں وہ اسی خاص حکمت کی وجہ سے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انما الامور ثلاثة - امر تبين لك رشدہ فاتبعہ - و امر تبين لك زيغہ فاجتنبہ - و امر اختلاف فيه فکله الی عالمه معاملات تین طرح پر ہیں۔ وہ معاملہ جس کی صحت تم پر واضح ہو اس کی پیروی کرو۔ اور وہ معاملہ جس کی کجی تم پر واضح ہو اس سے بچو۔ اور وہ معاملہ جس میں اختلاف پڑ جائے اس کو کسی جاننے والے کے سپرد کر دو۔ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اصلاح کی بات کہنی تھی ۔ اس کو آپ نے "تین " کلمات میں تقسیم کر کے فرمایا تاکہ سننے والے کو وہ فوراً یاد ہو جائے اور وہ اس کے ذہن کا جزو بن سکے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی امت نے بھی اس حکیمانہ طریقہ کی پیروی کی ۔ امت کے رہنما اور واعظین مسلسل اسی اندازِ کلام میں لوگوں کو نصیحتیں کرتے رہے ۔ وہ جب کسی سے نصیحت کا کوئی کلمہ کہتے تو ایسے اسلوب میں کہتے کہ لوگ اس کو پکڑ لیں اور اپنے دماغ میں اس کو محفوظ رکھیں ۔ یہاں نمونہ کے طور پر یحییٰ بن معاذ الرازی کے دو اقوال نقل کیے جاتے ہیں: طوبى لمن ترك الدنيا قبل ان تتركه وبنى قبره قبل ان يدخله وارضى ربه قبل ان يلقاه ترك الدنيا كلها أخذها كلها ۔ فمن تركها كلها أخذها كلها ومن أخذها كلها تركتها كلها فأخذها فى تركها وتركها فى أخذها مبارک ہے وہ جس نے دنیا کو چھوڑ دیا اس سے پہلے کہ دنیا اسے چھوڑے۔ جس نے اپنی قبر بنائی اس سے پہلے کہ وہ اس میں داخل ہو۔ جس نے اپنے رب کو راضی کر لیا اس سے پہلے کہ وہ اس سے ملے۔ دنیا کو پورا چھوڑنا دنیا کو پورا پکڑنا ہے۔ پس جس نے پورے کو چھوڑا اس نے پورے کو پکڑ لیا اور جس نے پورے کو لیا اس نے پورے کو چھوڑ دیا۔ پس دنیا کو لینا اس کے چھوڑنے میں ہے اور دنیا کو چھوڑنا اس کے لینے میں ہے۔ نصیحت کا کلمہ خیر خواہی کا کلمہ ہے۔ سچی نصیحت اصلاح کی تڑپ کے تحت نکلتی ہے۔ ایسا آدمی فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ بات کو ایسے انداز سے کہے کہ وہ سننے والے کے دل میں اتر جائے۔ وہ سننے والے کے ذہن میں مستقل طور پر محفوظ ہو جائے۔ وہ اس کو اصول زندگی کے طور پر ہمیشہ کے لئے یاد رکھے۔ یہ جذبہ کہنے والے کو مجبور کرتا ہے کہ وہ مخاطب کی پوری رعایت کرے۔ وہ اپنے الفاظ اور اپنے کلام کو زیادہ سے زیادہ پر حکمت بنائے۔ مخاطب کے ساتھ یہی خیر خواہی اور رعایت ہے جو نبی اور اس کے سچے متبعین کے یہاں مندرجہ بالا قسم کے ناصحانہ کلام میں ڈھل جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader