ناقص استدلال
Urdu book, p. 337
By Maulana Wahiduddin Khan
ان مناظروں کا مقصد دعوت نہیں تھا۔ بلکہ صرف یہ تھا کہ ایک دوسرے کے مذہب کو نیچا دکھایا جائے مسلمانوں کو مسیی اقوام سے سیاسی شکایت پیدا ہوگئی۔ اسی سیاسی شکایت کے مذہبی اظہار کا دوسرا نام مناظرہ تھا یہی وجہ ہے کہ ان مناظروں میں نہ ایک فریق سنجیدہ گفتگو کرتا تھا اور نہ دوسرا فریق۔ کہا جاتا ہے کہ اسی زمانہ میں آگرہ میں ایک پادری صاحب تھے۔ انھوں نے آگرہ کے چوک پر ایک یار تقریر کرتے ہوئے کہا کہ "جو شخص آسمان پر ہے اس کا مرتبہ اونچا ہے یا جو شخص زمین پر ہے اس کا مرتبہ اونچا ہے"۔ حضرت مسیح کے ساتھ "رفع" کا معاملہ ہوا تھا۔ یعنی سولی کے وقت وہ آسمان پر اٹھا لئے گئۓ۔ دوسری طرف پیغمبر اسلام وفات پا کر قبریں میں دفن کئے گئۓ ۔ اس فرق سے تمثیلی استدلال کرتے ہوٹے پادری صاحب نے حضرت مسیح کو اونچا ظاہر کیا اور پیغمبر اسلام کو نیچا۔ اس کے جواب میں ایک مسلمان دوکاندار نے دوسری تمثیل پیش کی ۔ اس نے اپنا تر از و اٹھایا اور کہا کہ پادری صاحب، اس ترازو کو دیکھئے ۔ آپ بتائیے کہ ترازو کا جو پلانہ نیچے جھکا ہوا ہے اس کا وزن زیادہ ہے یا جو پلانہ اوپر کی طرف اٹھا ہوا ہے اس کا وزن زیادہ ہے۔ کہانی بتاتی ہے کہ پادری صاحب کو اقرار کرنا پڑا کہ جو پلانہ نیچے کی طرف جھکا ہوا ہے اس کا وزن زیادہ ہے۔ ایک تمثیل میں پادری صاحب نے اپنے موافق دلیل پائی اور دوسری تمثیل میں مسلم دکاندار نے۔ مگر اس قسم کا تمثیلی استدلال نہایت کمزور طریقہ استدلال ہے۔ تمثیل کے ذریعہ کوئی چیز ثابت ہو تب بھی علمی طور پر وہ ثابت نہیں ہوتی۔ اور اگر وہ رد ہو تب بھی وہ علمی طور پر رد نہیں ہوتی۔ تمثیل ایک ایسا ربر ہے جس کو ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق گھٹایا یا بڑھا سکتا ہے۔ تمثیل کسی بات کو سمجھانے کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے۔ مگر اس سے نہ کوئی چیز ثابت ہوتی اور اس سے نہ کوئی چیز رد ہوتی۔ ایک زمانہ تھا کہ اس ملک میں مسلم اور غیر مسلم دونوں برابر کی سطح پر ملتے جلتے تھے۔ اردو زبان ملک کی عام زبان تھی اس لئے دونوں کے درمیان آزادانہ بات چیت ہوتی تھی۔ یہ بہترین وقت تھا کہ خدا کے دین کی دعوت خدا کے ہندوئوں تک پہنچائی جاتی۔ مگر مسلمانوں نے اس قیمتی وقت کو چھوٹی بحثوں میں کھو دیا۔ یہاں تک کہ وہ وقت آگیا کہ مسلمان اب یہاں ایک الگ تھلگ جماعت بن کر رہ گئے ہیں۔ ان کے اور غیر مسلموں کے درمیان تعلقات کی دوری بھی پیدا ہوگئی ہے اور زبان کی دوری بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader