Urdu book · تصویر ملت

دعوت اور اقدام کا فرق

Urdu book, p. 339

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ وہ موجود لوگوں کو ہٹانے میں کامیاب ہو جائے۔ مزید یہ کہ اگر وہ اکیٹر پچھاڑ کے ذریعہ موجود لوگوں کو ہٹانے میں کامیاب ہو جائے تو کیا خود اقدام کرنے والے کے پاس ایسے افراد موجود ہیں جن کو وہاں بٹھایا جائے تو وہ پچھلے نظام سے زیادہ بہتر نظام قائم کر کے اس کو چلا سکیں۔ دونوں میں سے کوئی ایک چیز بھی اگر موجود نہ ہو تو عملی اقدام محض ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنا بنا بنایا پختہ گھر گرا نا شروع کر دے۔ حالانکہ اس کے پاس وہ ضروری سامان موجود نہ ہو جس کے ذریعہ وہ دوسرا بہتر گھر بنا سکے۔ اپنا ذاتی معاملہ ہو تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ جو شخص مٹی اور سیمنٹ یا کچی اور پکی اینٹوں کا فرق نہ جانے اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ گھر کا معمار بن کر کھڑا ہو جائے۔ اس قسم کی بے خبری کے ساتھ کوئی شخص معمار بننے کی ہمت نہیں کرے گا۔ اور اگر کوئی نادان شخص ایسی جرات کرے تو لوگ کبھی اس کو نہیں بخشیں گے۔ اس کا عمل اس کو الٹا مجرم ثابت کرنے والا بن جائے گا نہ کہ دہ لوگوں کی نظر میں کسی انعام کا مستحق قرار پائے۔ مگر قومی وملی معاملات میں اس قسم کے معمار بہت بڑی تعداد میں میدان عمل میں کودتے ہیں۔ وہ مٹی کے گارے سے چھت جوڑتے ہیں مگر عوام کی طرف سے ان کو بڑے بڑے خطابات اور شان دار اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ ذاتی معاملہ میں اقدام کے بعد آدمی نتیجہ کو بھی ضرور دیکھنا چاہتا ہے۔ مگر عملی معاملہ میں اقدام کرنا ہو تو نتیجہ دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں صرف ایک پر شور اقدام نا کافی ہے خواہ اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے یا الٹا نتیجہ برآمد ہو ۔ درد سر اور درد گھر دونوں بہت ملتے جلتے الفاظ ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ سر کے درد کا علاج اگر گولی گولی سے ہو جاتا ہے تو گھر کا درد بھی ایک گولی سے ختم ہو جائے گا۔ دونوں لفظوں کا ملتا جلتا ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ دونوں کا معاملہ ایک ہے اور دونوں کو ایک ڈھنگ سے حل کیا جا سکتا ہے۔ مگر ہمارے مصلحین اکثر اپنے اصلاحی منصوبہ میں یہ غلطی کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ منصوبہ اپنی تکمیل کے مرحلہ میں پہنچ کر کبھی کوئی حقیقی نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ "قومی اقدام" جس طرح ہر حال میں ایک درست کام ہے اسی طرح "عملی اقدام" بھی ہر حال میں کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ قومی اقدام اور عملی اقدام ایک دوسرے سے بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ لفظی اشتراک کے سوا ان میں کوئی نسبت نہیں۔ ایک درخت کہیں رکاوٹ ڈال رہا ہو اور آپ کی تجویز یہ ہو کہ اس کو کاٹ دیا جائے تو صرف یہ کہنا کافی ہے کہ اس کو کاٹ دو لیکن اگر آپ اس کو بالفعل کاٹنے لگیں تو بہت سے اور پہلوؤں کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے۔ مثلاً یہ کہ درخت جب کٹ کر گرے تو وہ آپ کے سر پر نہ گرے بلکہ خالی زمین میں گرے۔ اگر آپ اس قسم کا اہتمام کئے بغیر درخت کاٹنا شروع کر دیں اور وہ کٹ کر آپ کے سر پر گر پڑے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ایک مسئلہ ختم کرنے کے نام پر دوسرا زیادہ بڑا مسئلہ پیدا کر لیا۔ اسی طرح ملت کے معاملات میں اقدام سے پہلے اس سے متعلق تمام پہلوؤں کو سمجھنا اور ان کے بارے میں اہتمام کرنا ضروری ہے۔ ورنہ ملت کی تعمیر کے نام پر ایک "درخت" گرایا جائے گا اور عملاً صرف یہ ہوگا کہ ملت کی تعمیر تو نہ ہوگی البتہ بہت سے لوگوں کے سر ٹوٹ جائیں گے۔ آپ کا اقدام صرف نئے نئے مسئلے پیدا کرے گا مزید اس قیمت پر کہ اصل مسئلہ بدستور باقی رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page