Urdu book · تصویر ملت

سبق آموز

Urdu book, p. 342

By Maulana Wahiduddin Khan

سبق آموز ۳۱ اگست ۱۹۸۸ کی صبح کو تمام اخبارات یہ خبرلے کر آئے کہ ہرجندر سنگھ جندا اور سنام سنگھ باوا کو دہلی میں گرفتار کر لیا گیا۔ جندا پنجاب کے انتہائی خطرناک دہشت پسندوں میں سے تھا۔ وہ خالصتان کمانڈو فورس میں ’’جنرل‘‘ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس نے جنرل ویدیہ، للت ماکن ایم پی ، ارجن داس کونسلر، کئی پولیس افسراور بیسیوں دوسرے افراد کو قتل کیا تھا۔ پنجاب نیشنل بنک لدھیانہ میں پانچ کروڑ روپیہ سے زیادہ کی ڈکیتی میں اسی کا ہاتھ تھا۔ وغیرہ۔ گرفتاری کے وقت اس کے پاس سے نہایت خطرناک ہتھیار، پانچ لاکھ روپے نقد، بہت سا سونا اور دوسری چیزیں برآمد ہوئیں۔ اس گرفتاری کے ذیل میں بہت سی تفصیلات اخباروں میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک جز یہ تھا کہ: پولیس نے نہایت صحیح وقت پر اس کو پکڑ لیا۔ کیوں کہ یہاں ایک اور خطرہ تھا۔ جندا خود کشی کر سکتا تھا جیسا کہ جگدیش سنگھ زیلا والا نے دو سال پہلے کیا تھا۔ پولیس کو جندا کی جیب میں کچھ سفوف ملا ہے جس کے متعلق ان کا خیال ہے کہ وہ سائنا نڈ زہر ہے۔ جگدیش سنگھ نے اس وقت سائنا نڈ کھا لیا تھا جب کہ وہ پہاڑ گنج کی پولیس چوکی کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ اگر جندا مر جاتا تو پولیس کے لیے یہ موقع ختم ہو جاتا کہ وہ اس سے سوالات کرے اور اہم معلومات حاصل کرے۔ (انڈین ایکسپریس یکم ستمبر ۱۹۸۸) دہشت پسند تنظیم کا کوئی شخص اگر زندہ حالت میں پولیس کے قبضہ میں چلا جائے تو پولیس اس پر ناقابل برداشت سختیاں کر کے اس سے تمام راز اگلو سکتی ہے، اور پھر پوری تنظیم کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ ایسی حالت میں دہشت پسند فوراً خود کشی کر لیتا ہے۔ وہ اپنا وجود مٹا دیتا ہے تاکہ اپنی تنظیم کے وجود کو بچا سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page