Urdu book · تصویر ملت

حد سے باہر

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

عجیب لوگ الرساله (اکتوبر ۱۹۸۵) میں ایک مضمون چھپا تھا جس کا عنوان تھا، ’’الفاظ کا رجسٹر‘‘ اس میں دکھایا گیا تھا کہ اردو زبان میں معیار بندی نہ ہونے کی وجہ سے یہ صورت حال ہے کہ بڑے بڑے لکھنے والے بھی اپنی تحریروں میں ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو جدید اصطلاح میں رجسٹر کے باہر کے الفاظ ہوتے ہیں۔ اس مضمون کو پڑھ کر ایک صاحب نے ہمیں پرجوش خط روانہ کیا ہے۔ ان کو اس مضمون پر سخت اعتراض ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد میں نے اردو زبان کے بہت سے شاعروں اور ادیبوں سے ’’انکوائری‘‘ کی کہ کیا ایسا کوئی رجسٹر موجود ہے مگر ہر ایک نے ایسے رجسٹر سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ممکن ہے انگریزی زبان میں ایسے رجسٹر موجود ہوں مگر اردو میں ابھی تک ایسی کوئی کتاب نہیں چھپی ہے جس میں رجسٹر کے اعتبار سے الفاظ کی تقسیم کی گئی ہو۔ ایسی حالت میں اردو کے اہل قلم حضرات کو کیوں کر اس بات کا مجرم قرار دیا جا سکتا ہے کہ انھوں نے اپنی تحریروں میں رجسٹر کے باہر کے الفاظ استعمال کیے۔ جب خود رجسٹر کا وجود نہیں تو کیسے فیصلہ کیا جائے گا کہ فلاں لفظ رجسٹر کے باہر ہے اور فلاں لفظ رجسٹر کے باہر نہیں۔ ہر پڑھا لکھا آدمی جانتا ہے کہ مذکورہ مضمون میں ’’الفاظ کا رجسٹر‘‘ سے مراد ذہنی رجسٹر ہے نہ کہ کوئی مطبوعہ رجسٹر۔ اس قسم کا رجسٹر ہمیشہ غیر مکتوب ہوتا ہے نہ کہ مکتوب۔ جو لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے انھیں کم از کم اپنی بے خبری کو جاننا چاہیے تاکہ وہ جاننے والے سے پوچھیں۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو نہیں جانتے، مزید یہ کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ نہیں جانتے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ وہاں بولتے ہیں جہاں انھیں چپ رہنا چاہیے۔ لوگ وہاں دوسرے کی غلطی کا اعلان کرتے کھڑے ہوجاتے ہیں جہاں ان سے مطلوب تھا کہ اپنی کوتاہی کا اعتراف کریں۔ لوگ صرف بولنے کو کام سمجھتے ہیں حالاں کہ چپ رہنا بھی ایک کام ہے۔ لوگ اپنی واقفیت کے اظہار کو کمال سمجھتے ہیں حالاں کہ اپنی ناواقفیت کا اعتراف بھی کم کمال کی بات نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page