حد سے باہر
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی سب سے بڑی کم زوری ایک شخص کا کہنا تھا کہ دنیا میں صرف دکھ ہے۔ یہاں سکھ نام کی کوئی چیز نہیں۔ ایک روز وہ اپنی بیوی کے ساتھ ناشتہ پر بیٹھا ہوا تھا۔ گفتگو کے دوران اس نے اپنا خیال دہرایا۔ اس کے ہاتھ میں مکھن لگا ہوا ڈبل روٹی کا ٹکڑا اٹھتا۔ اس نے کہا دنیا میں دکھ اتنا زیادہ ہے کہ یہ ٹکڑا اگر میرے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرے تو وہ بھی مکھن کی طرف گرے گا۔ اس کی بیوی نے کہا کہ تمھارا خیال صحیح نہیں۔ یہاں دکھ سکھ دونوں ہیں۔ ڈبل روٹی کا ٹکڑا اگر زمین پر گرے تو ادھر بھی گر سکتا ہے جدھر مکھن لگا ہوا ہے اور ادھر بھی جس طرف مکھن لگا ہوا نہیں ہے، بحث ہوتی رہی۔ آخر بیوی نے کہا کہ چلو تجربہ کر لو۔ ڈبل روٹی کا ٹکڑا زمین پر گراؤ پھر دیکھو کہ وہ دونوں رخوں میں سے کس رخ پر گرتا ہے۔ آدمی نے ٹکڑے کو فضا میں اچھالا۔ وہ زمین پر گرا تو اتفاقاً برعکس صورت حال پیش آئی۔ ٹکڑے کا مکھن لگا ہوا رخ اوپر تھا۔ تجربہ نے عورت کی بات دو اور دو چار کی طرح ثابت کر دی تھی ۔ مگر یہ چیز آدمی کو چپ نہ کر سکی۔ اس نے فوراً کہا: بات یہ ہے کہ میں نے غلط رخ پر مکھن لگا دیا تھا۔ یہ لطیفہ انسان کی نفسییات کو بہت خوبی کے ساتھ واضح کر رہا ہے۔ آدمی کسی بات کو اس وقت مانتا ہے جب کہ وہ خود بھی ماننا چاہے ۔ اگر وہ ماننا نہ چاہے تو آپ کسی بھی طرح اس کو منوا نہیں سکتے۔ ہر دلیل کے توڑ کے لئے وہ کچھ نہ کچھ الفاظ تلاش کر لے گا۔ کوئی دلیل خواہ وہ کتنی ہی مضبوط ہو، آدمی کو چپ کرنے والی ثابت نہیں ہو سکتی۔ مشین میں آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ بٹن دبا کر مطلوبہ نتیجہ حاصل کر لیں۔ مگر انسان اس قسم کی کوئی مشین نہیں ہے ۔ یہاں نتیجہ تمام تر خود "مشین" کے اپنے ہاتھ میں ہے نہ کہ آپ کے ہاتھ میں۔ دلیل کو پن کا مقام نہیں دیا جا سکتا۔ اور بلا شبہ زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے۔ جب کوئی بات سامنے لائی جائے تو صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی خالص اصلیت کے اعتبار سے اس کو دیکھے۔ وہ کھلے ذہن کے ساتھ اس پر غور کرے۔ ماننے یا نہ ماننے کی بنیاد بات کا صحیح یا غلط ہونا ہو نہ کہ دوسرے اعتبارات۔ یہی طالب حق کا طریقہ ہے۔ مگر آج صورت حال یہ ہے کہ ہر آدمی نے اپنے ذہن کو کہیں نہ کہیں باندھ رکھا ہے۔ وہ کسی نہ کسی جگہ اپنے کو چھپائے ہوئے ہے۔ اس کے فیصلے اسی تعپی ہوئی وفاداریوں کے تحت ہوتے ہیں نہ کہ حقیقت بے لاگ جائزہ کے تحت۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب کوئی بات سامنے آتی ہے تو آدمی ایک قسم کے منفی رد عمل کا اظہار کرتا ہے، وہ ایجابی رویہ ظاہر نہیں کرتا۔ وہ بات کو اس کی اصلیت کے اعتبار سے دیکھنے کے بجائے اپنے تعصبات اور اپنی مصلحتوں کے تحت اس کو دیکھنے لگتا ہے۔ اس کی وجہ سے اس کا ذہن یا تو تأویل کے رخ پر چل پڑتا ہے یا تردید کے رخ پر۔ وہ تصدیقی اور اعتراف کے رخ پر چلنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتا۔ جو بات آدمی کی پسند کے خلاف ہو، جس میں اس کی شخصیت چھوٹی ہو رہی ہو اس کو وہ سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ وہ اس کو غیر موافقانہ ذہن کے ساتھ سنتا ہے اور فوری تاثر کے تحت ایک رائے قائم کر کے اس کو رد کر دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں نے ایک بات کو غلط پا کر اس کو رد کیا ہے۔ حالاں کہ باعتبار حقیقت وہ اپنے ایک خود ساختہ تصور کو رد کر رہا ہوتا ہے نہ کہ مخاطب کی کہی ہوئی بات کو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader