حد سے باہر
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
کیسا عجیب انگریزی اخبار پیٹریاٹ (Patriot) کی ایک صحافتی ٹیم ہندوستان کے مسلم مدارس کا جائزہ لینے کے لئے نکلی۔ ۸ جنوری ۱۹۸۵ کو وہ یوپی کے ایک عربی مدرسہ میں پہنچی۔ انھوں نے تفصیل کے ساتھ مدرسہ کو دیکھا۔ اس موقع پر مدرسہ کے ناظم اعلیٰ نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بالخصوص ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ ہندوستان کی جنگِ آزادی کے دوران ہندوستانی مسلمانوں کو برطانوی حکومت سے متنفر کرانے میں دینی مدارس نے ایک اہم اور موثر کردار ادا کیا ہے (جنوری ۱۹۸۵) یہ بات جو لکھنے والے نے مسلم مدارس کے بارے میں لکھی ہے وہی موجودہ زمانہ کی تمام مسلم قیادت پر صادق آتی ہے۔ ہماری قیادت نے موجودہ زمانہ میں اس راز کو نہیں سمجھا کہ دوسری قو میں ہمارے لئے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انھوں نے ان قوموں کو حریف اور رقیب کی نظر سے دیکھا۔ انھوں نے ان کو خدا کے دین کا مدعو ہونے کی نظر سے نہیں دیکھا۔ مدعو ہونے کی حیثیت سے یہ قومیں ہماری محبت اور خیر خواہی کی مستحق تھیں مگر حریف اور رقیب سمجھنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ ہمارے لئے صرف نفرت کا موضوع بن کر رہ گئیں۔ کیسی عجیب ہے وہ اگلی نسل جس کے پاس فخر کرنے کے لئے یہ ہو کہ اس کی پچھلی نسل نے ان لوگوں سے نفرت کی جن کو خدا نے ان کے لئے مدعو بن کر ان کے پاس بھیجا تھا۔ اس کے بعد اگر ان قوموں کو مسلمانوں کے دین سے نفرت ہو جائے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ جن لوگوں کے لئے ہمارے پاس نفرت کا تحفہ ہو کیا ان کے پاس ہمارے لئے محبت کا تحفہ ہوگا۔ موجودہ زمانہ کی مسلم قیادت نے بیشمار ہنگامے کھڑے کئے ۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھتے تو انہوں نے اپنے بعد صرف دو چیزوں کی وراثت چھوڑی ہے ____ مسلمانوں میں جھو ٹا فخر اور غیر مسلموں میں جھوٹی نفرت۔ اسلام واقعتاً جس کے سینہ کے اندر سما جائے وہ اس کے اندر تواضع پیدا کرے گا نہ کہ فخر۔ اسی طرح جس کا ذہن اسلام کے زیر اثر بنا ہو وہ یک طرفہ طور پر دوسروں کا خیر خواہ بن جائے گا۔ خواہ دوسرے لوگ اس کے ساتھ جو بھی سلوک کر رہے ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader