Urdu book · تصویر ملت

مفاد پرستی

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا کے تابع سومنات مندر جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ۶ جنوری ۱۰۲۶ء کو محمود غزنوی نے اسے ڈھا دیا تھا اور پھر وہ دوبارہ بنایا گیا، یہاں آجکل ایک عجیب نزاع برپا ہے۔ اس تاریخی مندر میں مختلف مذہبی امور کی ادائیگی کے لئے ۱۲۵ آدمی مقرر ہیں۔ ان کو مندر کی طرف سے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔ اس تنخواہ کی مقدار ۲۵۰ روپے ماہوار سے لے کر ۴۰۰ روپے ماہوار تک ہے۔ یہ تنخواہ ان کارکنوں کو کم محسوس ہوتی تھی۔ چنانچہ انھوں نے تنخواہ میں اضافہ کے لئے لیمبر کورٹ میں دعویٰ کر دیا۔ مندر ٹرسٹ جس کے صدر مسٹر مارجی ڈیسائی ہیں، اس کا کہنا ہے کہ سومنات مندر ایک مذہبی وقف ہے اور اس کا معاملہ ریلیجس ٹرسٹ ایکٹ کے تحت آتا ہے۔ دوسری طرف کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک صنعت ہے اس کا معاملہ انڈسٹریل ڈسپیویٹس ایکٹ کے تحت طے کیا جانا چاہئے ۔ مندر کے کارکنوں کا فائدہ اس میں ہے کہ مندر کو ایک صنعت قرار دیا جائے اور اس کا معاملہ انڈسٹریل ڈسپیویٹس ایکٹ کے تحت لیمبر کورٹ میں طے کیا جائے۔ اس طرح ان کو صنعتی مزدوروں والی مراعات حاصل ہو جائیں گی جو ریلیجس ٹرسٹ ایکٹ کے تحت انھیں نہیں مل سکتیں (ٹائمز آف انڈیا یکم ستمبر ۱۹۸۳) بظاہر یہ بڑی عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے لیکن گہرائی کے ساتھ غور کیجئے تو آج تمام مذہب والوں کا یہی حال ہے، حتی کہ خود مسلمانوں کا بھی۔ مسلمان آج اسلامی تعلیمات کی تشریح عوامی خواہشات کی روشنی میں کرتے ہیں کیوں کہ اس طرح انھیں عوامی مقبولیت حاصل ہو جاتی ہے۔ اگر وہ خالص حق کی روشنی میں اسلام کی تشریح کریں تو عوام کی بھیڑ فوراً ان کا ساتھ چھوڑ دے ۔ وہ اسلام کو زمانہ کے تابع کرکے پیش کرتے ہیں تاکہ ہر ایک کی موافقت انھیں حاصل رہے۔ اگر وہ زمانہ کو اسلام کے تابع بنا کر پیش کریں تو کوئی ان کو ساتھ دینے والا نہ ملے۔ دین اصلاً آخرت کی چیز ہے۔ مگر دین کو آخرت کی چیز کی حیثیت سے لینے میں زیادہ قیمت ملتی ہوئی نظر نہیں آتی، اس لئے ہر آدمی دین کو دنیا کی چیز بنا کر اختیار کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کر سکے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو سومنات کو ڈھانے والے بھی وہیں نظر آئیں گے جہاں سومنات کو آباد کرنے والے نظر آتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page