Urdu book · تصویر ملت

ہمارے علما

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

ہمارے علماء مولانا عبید اللہ سندھی (م ۱۹ - ۱۸۷۲) نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے زمانہ میں یورپ کا سفر کیا تھا۔ وہ یورپ کے سفر سے واپس آئے تو انھوں نے یہ تجویز پیش کی کہ علماء اپنا موجودہ کرتا اور پائجامہ اتار دیں اور ہیٹ اور پتلون پہنیں۔ اس سے ان کا جمود ٹوٹے گا اور ان کے اندر جدید حالات کے لحاظ سے سوچنے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔ علماء یہ تجویز سن کر بگڑ گئے۔ کسی نے مولانا عبید اللہ سندھی کو کافر قرار دیا، کسی نے کہا کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں۔ ہمارے علماء کبھی اس کے لئے تیار نہیں ہو سکتے کہ وہ ہیٹ اور کوٹ پینٹ پہن کر سڑکوں پر چلیں، حالانکہ یہ زیادہ سے زیادہ لغو ہے نہ کہ حرام۔ دوسری طرف یہی علماء جان بوجھ کر ایسے کام کرتے ہیں جو شریعت میں صراحتاً حرام قرار دئے گئے ہیں۔ وہ اسلامی اتحاد کو توڑتے ہیں، وہ ایک دوسرے کے خلاف تخریب کاری کے منصوبے بناتے ہیں۔ ان کا ایک گروہ دوسرے گروہ پر غبن، خیانت، کذب بیانی اور عہد شکنی کے الزامات لگاتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کی پوشیدہ باتوں کا پتہ لگا کر عوام میں ان کو شہرت دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان کے اوپر تنقید کر دے تو اس کے خلاف ان کے انتقام کی آگ برسوں تک نہیں بجھتی۔ یہ سارے کام بلا شبہ خدا کی شریعت میں حرام ہیں۔ مگر ہمارے علماء پوری دلیری کے ساتھ ان کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ اس مقصد کے لئے جلسے کرتے ہیں، لاکھوں روپے خرچ کر کے اخبار نکالتے ہیں جو ان کی خرافات کی اشاعت کرے، وہ اپنے لوگوں کو ملا کر جتھے بناتے ہیں اور پھر ایک جتھا دوسرے جتھے کو گرانے اور ذلیل کرنے کے لئے وہ تمام کارروائیاں کرتا ہے جو اس کے لئے ممکن ہیں۔ یہ صورت حال ثابت کر رہی ہے کہ ہمارے علماء کے یہاں اب صرف نمائش والا دین باقی رہ گیا ہے، حقیقت والا دین ان کے یہاں موجود نہیں۔ عوام میں اپنا دینی وقار قائم رکھنے کے لئے عرفی طور پر جن چیزوں کی اہمیت ہے ان پر وہ سختی سے قائم ہیں اور جو چیزیں خدا کے یہاں ان کو روسیاہ کرنے والی ہیں ان کی انھیں کوئی فکر نہیں۔ ان کو عوام کا ڈر ہے۔ مگر خدا کا ان کے دل میں کوئی ڈر نہیں۔ عوام چندے دیتے ہیں، عوام استقبال کرتے ہیں، عوام حلقہ فراہم کرتے ہیں۔ عوام کے بل پر قیادت و پیشوائی حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ سب سے زیادہ اہمیت اس بات کو دیتے ہیں کہ عوام کے درمیان ان کا دینی بھرم قائم رہے۔ ان کو دنیا کی ضرورت تھی جو عوام کے ذریعہ انھیں مل گئی۔ پھر خدا کی جنت اور جہنم کے لئے فکر مند ہونے کی انھیں کیا ضرورت۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page