لعنت کیا ہے
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
لعنت کیا ہے یہود میں جب بگاڑ آیا تو پیغمبروں کے ذریعہ ان پر لعنت کی گئی۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا اُن پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی ۔ یہ اس لیے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے نکل جاتے تھے ۔ وہ ایک دوسرے کو اپنے درمیان ہونے والی بُرائی سے روکتے نہ تھے ۔ کیسا بُرا کام تھا جو وہ کر رہے تھے ۔ تم اُن میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ کفر کرنے والوں سے دوستی رکھتے ہیں۔ کیسی بُری چیز ہے جس کو وہ اپنے آگے بھیج رہے ہیں جس سے اللہ ان پر ناراض ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے ۔ اور اگر وہ اللہ پر اور رسول پر اور جو کچھ اس پر اترا ہے اس پر ایمان لاتے تو وہ ان کو دوست نہ بناتے ، مگر ان میں سے اکثر نافرمان ہیں (مائدہ ۷۸ ۔ ۸۱) لعنت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پیغمبروں نے آ کر یہود کے سامنے یہ الفاظ دہرائے کہ "تم پر لعنت ہے" یا "تم ملعون ہو۔" اِس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے ان کے مذہبی بھرم کو کھولا۔ یہود عملاً اپنی خواہشات اور اپنے قومی تعصبات پر چل رہے تھے مگر اپنی اس روش کو مذہب کا نام دیتے تھے۔ انھوں نے خدائی تعلیمات کی خود ساختہ تشریح کر کے اس کو اپنے حسب حال بنالیا تھا۔ پیغمبروں نے یہ کیا کہ ان کے اِس فریب کو بے نقاب کیا۔ ان کا تجزیہ کر کے کھول دیا کہ وہ کیا ہیں اور اپنے کو کیا ظاہر کر رہے ہیں۔ مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ یہود پر یہ لعنت حضرت داؤد اور حضرت مسیح کے ذریعہ کی گئی۔ ان پیغمبروں کی تقریریں آج بھی بائبل میں موجود ہیں۔ ان کو دیکھ کر بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس "لعنت" کی عملی صورت کیا تھی۔ یہاں ہم حضرت داؤد کے اقوال کا کچھ حصہ نقل کرتے ہیں : خدا شریر سے کہتا ہے۔ تجھے میرے آئین بیان کرنے سے کیا واسطہ۔ اور تو میرے عہد کو اپنی زبان پر کیوں لاتا ہے۔ جب کہ تجھے تربیت سے عداوت ہے۔ اور تو میری باتوں کو پیٹھ پیچھے پھینک دیتا ہے۔ تو چور کو دیکھ کر اس سے مل گیا۔ اور تو زانیوں کا شریک رہا ہے۔ تیرے منہ سے بدی نکلتی ہے۔ اور تیری زبان فریب گھڑتی ہے۔ تو بیٹھا بیٹھا اپنے بھائی کی غیبت کرتا ہے۔ اور اپنی ہی ماں کے بیٹے پر تہمت لگاتا ہے۔ تو نے گمان کیا کہ میں بالکل تجھ ہی سا ہوں۔ لیکن میں تجھے ملامت کر کے ان کو تیری آنکھوں کے سامنے ترتیب دوں گا۔ اب اے خدا کو بھولنے والو اسے سوچ لو ۔ ایسا نہ ہو کہ میں تم کو پھاڑ ڈالوں اور کوئی چھڑانے والا نہ ہو ۔ جو شکر گزاری کی قربانی گزرانتا ہے وہ میری تمجید کرتا ہے۔ اور جو اپنا چال چلن درست رکھتا ہے اس کو میں خدا کی نجات دکھاؤں گا (زبور ۵۰)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader