تزکیہ نفس
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمان باللہ کے اعتبار سے مسلسل بڑھتا ہے۔ یہ تزکیہ یا شعوری اضافہ کس طرح ہوتا ہے۔ اس کا ذریعہ غوروفکر (contemplation) ہے۔ یہ غوروفکر اپنے آپ میں ایک مسلسل عمل ہے ـــ قرآن اور حدیث میں غوروفکر، سیرت رسول میں غوروفکر، صحابہ کی زندگی میں غوروفکر، دوسرے موضوعات انسانی پر غوروفکر، کائنات پر غوروفکر، غرض ذرہ سے لے کر آفتاب تک ہر چیز پر غوروفکر۔ اس کے علاوہ، سنجیدہ مذاکرات کے دوران غوروفکر۔ اس غوروفکر کے درمیان ایسا ہوتا ہے کہ ذہن میں نئے نئے خیالات آتے ہیں، معلوم باتوں کی نئی نئی توجیہات سمجھ میں آتی ہیں، واقعات و حقائق کے نئے نئے رخ علم میں آتے ہیں، وغیرہ۔ جس آدمی کو سچا ایمان حاصل ہو، اس کا حال یہ ہوگا کہ ہر مطالعہ اور مشاہدہ اس کے لیے ربانی دریافت کا سبب بنتا رہے گا، ہر تجربہ اس کے لیے خدا سے قربت کا ذریعہ بن جائے گا۔ اُس کا ایمان ابتداءً اگر ایک بیج تھا تو اس طرح بڑھتے بڑھتے وہ ایک پورا درخت بن جائے گا۔ اُسی فکری اور روحانی عمل کا اسلامی نام تزکیہ ہے ـــ ایمان اگر اسلام میں داخلے کا عنوان ہے، تو تزکیہ ایمان کے ارتقا کا عنوان۔ تزکیہ اور علم تزکیہ کے لیے ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ کسی صاحب کمال کی صحبت حاصل کی جائے، کیوں کہ صاحب کمال کی ایک نظر انسان کو بدلنے کے لیے کافی ہوتی ہے، لیکن یہ نقطہ نظر قرآن اور حدیث سے ثابت نہیں۔ قرآن اور حدیث کے مطابق،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader