علماء اور دورِ جدید
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
اور اودھ میں برطانوی غلبہ کے خاتمہ کو روک نہیں سکتی تھی ، اگر ایسا ہوتا کہ ٹیلی گراف کا نظام قائم کیے جانے سے پہلے بغاوت ہو جاتی۔ تار کے ذریعہ (جس کو باغی کاٹ نہیں سکتے تھے) گورنر جنرل ، لارڈ کینگ نے انگلینڈ سے مزید فوج طلب کی۔ اس کے علاوہ لارڈ کینگ کے لیے ٹیلی گرام ہی کے ذریعہ یہ ممکن ہوا کہ وہ تیزی کے ساتھ مدراس سے ، بمبئی سے، لندن سے ، برما سے قیمتی فوجی دستے حاصل کر سکیں۔ مزید ٹیلی گرام ہی کے ذریعہ انہیں یہ موقع ملا کہ وہ ایران سے اس طاقت در فوج کو واپس بلا سکیں جو جنرل اوٹرم کی قیادت میں وہاں بھیجی گئی تھی۔ مگر ان سب سے زیادہ فیصلہ کن یہ بات تھی کہ ٹیلی گرام کے ذریعہ ان کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ ایک فوری اور واجب التعمیل پیغام سنگا پور بھیج کر ساز و سامان سے لیس اس پانچ ہزار آدمیوں کی مسلح فوج کو درمیان میں مداخلت کر کے بلا سکیں جو لارڈ ایلگن کی قیادت میں چین جا رہی تھی۔ مزید ٹیلی گرام ہی کے ذریعہ کیپ کا لونی سے توپ خانہ کی دو بیٹری، اسٹور، گھوڑے اور ساٹھ ہزار پونڈ سونے کی صورت میں منگوائے گئے۔ ایک صحیح آواز سید رشید رضا (۱۹۳۵-۱۸۶۵) دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی دعوت پر ۱۹۱۲ میں ہندوستان آئے تھے۔ اس کے بعد وہ دیو بند کے دار العلوم میں گئے۔ وہاں انھوں نے اساتذہ اور طلبہ کے سامنے عربی میں ایک مفصل تقریر کی جو دار العلوم دیوبند کی رو داد (۱۳۳۰ھ، ۱۹۱۲ء) میں درج ہے۔ اس تقریر میں انھوں نے علماء کو اشاعت اسلام کے کام کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا : " اسلام کی اشاعت کا دوسرا حصہ بت پرستوں سے متعلق ہونا چاہیے۔ ہندوستان میں سیکڑوں قسم کے بت پرست ہیں۔ یہاں بتوں کو پوجنے والے، درختوں اور پتھروں کو پوجنے والے، چاند، سورج، ستاروں اور دوسری لغویات کو پوجنے والے موجود ہیں۔ اگر ہمارے پاس دعاة اور مبلغین کی ایک مضبوط جماعت موجود ہو تو ان لوگوں میں اسلام کی اشاعت اس قدر سرعت کے ساتھ ہو سکتی ہے جو اس وقت ہمارے تصور میں بھی نہیں آسکتی۔ ہمیں عیسائیوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ کامیابی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک خاص بات اور ہے جو ہر ایک دور اندیش مسلمان کی توجہ کے لائق ہے۔ اور وہ یہ کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد غیر مسلموں کے مقابلہ میں اتنی کم ہے کہ ان کی ہستی کو اس ملک میں ہمیشہ معرضِ خطر میں سمجھنا چاہیے۔ انگریزی حکومت جو عقل و عدل کی حکومت ہے، اس نے غیر مسلموں اور مسلمانوں کے درمیان میزانِ قائم رکھا ہے۔ اگر کبھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader