کونیت بشری، امارت بشری
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
ہتھیار تیار کر لیے۔ انھوں نے بری اور بحری سفر پر ہوائی سفر کا اضافہ کیا۔ انھوں نے حیوانی قوت سے چلنے والی سواری کو انجن کی قوت سے چلنے والی سواری میں تبدیل کر لیا۔ انھوں نے انسانی تاریخ کو محنت کے دور سے نکال کر منصوبہ بند عمل کے دور میں پہنچادیا۔ تاریخ کے پچھلے ادوار میں ایک فریق اور دوسرے فریق کے درمیان زیادہ تر کميانی فرق (Qualitative difference) ہوا کرتا تھا۔ اب اہل مغرب نے ایسا دور تخلیق کیا جب کہ ان کے اور دوسروں کے درمیان کیفیاتی فرق (Quantitative difference) پیدا ہوگیا۔ اس تبدیلی نے اہل مغرب کو دوسری قوموں کے اوپر واضح اور فیصلہ کن فوقیت دے دی۔ ان فرق نے جس طرح حالات کو بدلا، اسی طرح خود انسانوں میں زبردست تبدیلیاں پیدا کیں۔ اب اہل مغرب نئی دریافت کی نفسیات میں جی رہے تھے اور اہل مشرق وراثتی عقیدہ کی نفسیات میں۔ اہل مغرب اجتہادی اوصاف کے مالک تھے اور اہل مشرق تقلیدی اوصاف کے مالک۔ اہل مغرب کے درمیان آزادی تنقید کا ماحول تھا اور اہل مشرق کے یہاں ذہنی جمود کا ماحول۔ اہل مغرب کا قافلہ رواں دواں دریا کی مانند تھا اور اہل مشرق کی جماعت ٹھہرے ہوئے پانی کی مانند۔ اہل مغرب ایک مقصد کے تحت متحرک ہو ہوئے تھے اور اہل مشرق کے یہاں مقصد کا تصور فنا ہو چکا تھا۔ اہل مغرب کے زندہ اوصاف نے ان کو باہم متحد کر رکھا تھا اور اہل مشرق اپنے زوال یافتہ اوصاف کے نتیجہ میں ان خصوصیات سے محروم ہو چکے تھے جو افراد کو ایک دوسرے سے متحد کرتے ہیں۔ اہل مغرب اس احساس پر ابھرے تھے کہ انھوں نے ایک نئی تہذیب پیدا کی ہے جس کو انھیں سارے عالم تک پہنچانا ہے اور اہل مشرق صرف اس احساس پر زندہ تھے کہ وہ ماضی کے قدیم اثاثہ کے وارث ہیں۔ اہل مغرب اقدام کے جذبات سے بھر پور تھے جب کہ اہل مشرق کی دوڑ کی آخری حد تحفظ پر جاکر ختم ہو جاتی تھی۔ اس فرق نے دونوں جماعتوں کے افراد کے درمیان زیادہ بڑے پیمانے پر وہی فرق پیدا کر دیا تھا جو ایک تھکی ہوئی فوج اور ایک تازہ دم فوج کے درمیان ہوا کرتا ہے۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ یہ تھا کہ اپنے گروہ کے افراد کو ازسر نو تیار کیا جائے نہ یہ کہ ان غیر تیار شدہ افراد کو جوش دلا کر انھیں فریق ثانی کے خلاف صف آرا کر دیا جائے، جیسا کہ موجودہ دور کے علماء نے کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader