دورِ جدید سے بے خبری
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
دورِ جدید سے بے خبری اس سے پہلے میں نے ایک مضمون لکھا تھا۔ یہ مضمون ”دورِ جدید کو جاننے کی ضرورت“ کے عنوان سے ہفت روزہ الجمعیۃ (۲۳ نومبر، ۱۹۷۶) میں چھپا تھا۔ اس میں میں نے لکھا تھا کہ ”دنیا میں فکرو عمل کا جو انقلاب آیا ہے اس نے اسلام کے لیے بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں۔ مگر یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ اگر چہ امت طویل مدت سے اس سنگین صورت حال سے دوچار ہے۔ مگر آج تک یہ سمجھنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی کہ فی الواقع جدید مسئلہ کیا ہے۔“ ندوۃ العلماء، لکھنو نے ۱۸۹۷ میں ملک کے بڑے بڑے علماء کی ایک کمیٹی مقرر کی جس کے ذمّہ یہ کام تھا کہ وہ اصلاحِ نصاب کے سلسلہ میں اپنی سفارشات پیش کرے۔ اس موقع پر مولانا شاہ محمد حسین صاحب نے جو یاد داشت پیش کی، اس کا ایک پیراگراف مطبوعہ روداد کے مطابق ، یہ تھا : ( موجودہ درسِ نظامیہ کا ایک نقصان یہ ہے کہ ) فلسفۂ جدید جو اسلامی اصول پر آج کل حملہ آور ہے، اس کے روک کی کوئی تدبیر نہیں بتائی جاتی۔ لہذا میرے نزدیک مناسب ہے کہ کوئی کتاب فلسفۂ جدید میں تالیف کی جائے اور اس کی ترکیب آسان یہ ہے کہ ایسے خالص مسلمانوں سے درخواست کی جائے جنہوں نے انگریزی فلسفہ اور انگریزی کی تعلیم اچھی پائی ہو۔ وہ مسائل فلسفہ مخالفِ اسلام چھانٹ کر اردو میں ترجمہ کر کے حوالہ ندوۃ العلماء کریں۔ ندوۃ العلماء اس کا جواب لکھا کر داخلِ درس کرے کے ایامِ تعطیل و اوقاتِ فرصت میں طلبہ اس کو بخوبی دیکھیں“ اس تجویز پر تقریباً سو سال گزر چکے ہیں۔ مگر اب تک یہ تجویز واقعہ نہ بن سکی۔ ند وۃ العلماء نے اپنے دعوے کے مطابق، اس مدت میں بڑی بڑی ترقیاں کی ہیں۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ ندوۃ العلماء کا نصاب آج بھی ایسی کسی کتاب سے خالی ہے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے تقسیم ہند سے دس سال پہلے ایک کتاب لکھی جو ”تجدید و احیاء دین“ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس میں وہ شاہ ولی اللہ سے لے کر شاہ اسماعیل تک کی اسلامی تحریکوں کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ”سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید جو عملاً اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے اٹھے تھے، انھوں نے سارے انتظامات کیے مگر اتنا نہ کیا کہ اہل نظر علماء کا ایک وفد یورپ بھیجتے اور یہ تحقیق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader