دورِ جدید سے بے خبری
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
حكيم حميد) وأنى للباطل أن يدخل على هذا الكتاب ، وهو صادر من الله الحق ۔ يَصْدَعُ بالحق ويتصل بالحق الذي تقوم عليه السماوات والأرض ۔ وأنى يأتيه الباطل وهو عزيز محفوظ با مر الله ۔ ( فی ظلال القرآن ۵/ ۳۱۲۶) یہ تفسیر محض ایک ادبی تفسیر ہے۔ اس کا علمی یا عقلی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں۔ سورہ الاعراف میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور فرعون کا مکالمہ نقل فرمایا ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ کی دعوت کے جواب میں فرعون اپنے درباریوں کو مخاطب کرتے ہوئے تقریر کرتا ہے اور ان کو موسیٰ کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کرتا ہے جو بظاہر موسیٰ کے خطاب سے متاثر ہورہے تھے۔ اس تقریر میں فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا کہ موسیٰ چاہتے ہیں کہ تم کو تمہارے ملک مصر سے نکال دیں (يريد أن يخرجكم من ارضکم) اس کی تشریح سید قطب نے ان الفاظ میں کی ہے : إِنَّهُم يُصرحون بالنتيجة الهائلة التي وہ اس خوف ناک نتیجہ کو واضح کرتے ہیں جو اس تتقرر من إعلان تلك الحقيقة - إنها حقیقت کے اعلان سے ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہ کہ الخروج من الارض - إنها ذهابُ یہ سرزمین مصر سے نکلنا ہے۔ یہ اقتدار کا خاتمہ السلطان - إنها إبطالُ شَرْعِيَّةِ الحكم۔ ہے۔ یہ ہماری حکمرانی کو ناجائز ٹھہرانا ہے۔ یا یہ، أو مُحاولة قلبِ نظامِ الحكم، بالتعبير دورِ جدید کی تعبیر کے مطابق، نظامِ حکومت کو العصري الحديث (۳/ ۱۳۳۸) بدلنے کی کوشش ہے۔ آیت کی یہ تشریح سراسر غیر علمی اور غیر عقلی ہے۔ کیوں کہ قرآن میں جب موسیٰ اور فرعون دونوں کا کلام موجود ہے تو موسیٰ کی دعوت کو موسیٰ کے کلام سے معلوم کیا جائے گانہ کہ فرعون کے کلام سے۔ فرعون کی تقریر سے موسیٰ کا مقصد اخذ کرنا ایسا ہی ہے جیسے سید قطب کی تحریک کے مقصد کو جمال عبدالناصر کے بیان سے اخذ کیا جائے۔ ایک مغربی حوالہ ملائز رو تھوین (پیدائش ۱۹۳۴) ایک انگریزی ، جرنلسٹ ہیں۔ انھوں نے عرب ملکوں کا سفر کیا ہے اور عربی زبان سیکھی ہے۔ مسلم مصنفین کا بھی انھوں نے مطالعہ کیا ہے۔ جدید دنیا میں اسلام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader