Urdu book · علماء اور دورِ جدید

دورِ جدید سے بے خبری

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

کے حق میں جب کوئی دلیل دی جائے تو ضروری ہے کہ مخاطب اس کا دلیل ہونا تسلیم کرتا ہو۔ اگر دلیل فریق ثانی کے نزدیک نزاعی ہو تو وہ اس کے نزدیک دلیل نہیں ہوگی۔ ایسی دلیل کو پیش کرنا بے کار ہوگا، اس سے نہ کوئی فائدہ ملے گا اور نہ کوئی مقصد حاصل ہوگا (اذا کان الدلیل عند الخصم متنازعاً فیہ فلیس عندہ بدلیل فصار الاتیان بہ عبثاً لا يفيد فائدة ولا يحصل مقصود) الجزا الرابع ، صفحہ ۱۶۸ اس کا مطلب یہ ہے کہ دلیل وہ ہے جو مخاطب کے مسلمہ معیار کے مطابق ہو۔ جو دلیل کسی ایسی بنیاد پر قائم کی جائے جو مخاطب کے نزدیک مسلم نہ ہو وہ اس کے لیے دلیل بھی نہیں بن سکتی۔ چند مثالیں ۱- ابن تیمیہ (۱۲۲۸-۱۲۶۳) اپنی بہت سی خصوصیات کے ساتھ متکلم بھی سمجھے جاتے ہیں۔ مگر ان کی اکثر دلیلیں انشا طلبی کے مذکورہ معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ کم از کم موجودہ زمانہ میں ان کی قیمت بہت کم ہوگئی ہے۔ ابن تیمیہ نے اپنی ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے جسمانی معراج ہونے پر عقلی دلیل دی ہے۔ ان کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح نے اپنے جسم اور روح کے ساتھ آسمان کی طرف صعود کیا (ان المسيح صعد الى السماء ببدنه و روحه) اسی طرح اہل کتاب کا عقیدہ ہے کہ الیاس نے اپنے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف صعود کیا (ان الياس صعد الى السماء ببدنہ) الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح ۴۰/۲ - ۱۶۹ جسمانی معراج کی یہ دلیل کسی مخصوص مخاطب کے لیے جدلی یا الزامی طور پر دلیل بن سکتی ہے جو حضرت مسیح اور حضرت الیاس کے جسمانی صعود کا عقیدہ رکھتا ہو۔ مگر اصل مسئلہ جدلی یا الزامی دلیل کا نہیں ہے بلکہ علمی اور عقلی دلیل کا ہے۔ علمی اور عقلی دلیل وہ ہے جس کی بنیاد ایسے معلوم حقائق پر رکھی گئی ہو جو اہل علم کے یہاں عمومی طور پر تسلیم شدہ ہوں۔ چونکہ یہ کوئی علمی مسئلہ نہیں ہے کہ مسیح اور الیاس نے اپنے دنیوی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف صعود کیا اس لیے مذکورہ دلیل عقلی دلیل بھی نہیں۔ ۲- جیسا کہ معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت تھی۔ حتیٰ کہ آپ ہر کے بغیر بھی کسی عورت کو اپنے نکاح میں لے سکتے تھے۔ اس کثرت ازواج پر مخالفین کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی (۱۹۴۹-۱۸۸۸) اپنی تفسیر قرآن میں لکھتے ہیں :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page