Urdu book · علماء اور دورِ جدید

دورِ جدید سے بے خبری

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

کو صاحب جسم کے علی الرغم کاٹ کر پھینک دے : اور تھوڑ اثر جب زیادہ خیر کی طرف لے جانے والشراقلیں اذاکان مفضیا الی الخیر الکثیر والا ہو تو اس پر عمل کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ واجب فعلہ (الجزء الثانی ، صفحہ ۱۷۰) قتال کے حق میں شاہ ولی اللہ کی یہ دلیل جدید انسان کے مسلمات کے مطابق نہیں ۔ اس کو سن کر جدید انسان کہے گا کہ آپ کا جذبہ صالح قابل قدر ہے ۔ مگر آپ کی اسکیم سراسر نادانی کی اسکیم ہے۔ آپ کی یہ تو جیہہ تلواروں کی لڑائی کے زمانہ میں باوزن محسوس ہو سکتی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ کی لڑائی میں وہ بالکل بے معنی ہے ۔ کیوں کہ نئے ہتھیار بن جانے کے بعد اب لڑائی خود تمام برائیوں سے زیادہ بڑی برائی بن چکی ہے ۔ آج کی لڑائی ایٹم بم کی لڑائی ہے ۔ اور اگر ایٹم بم کی لڑائی چھیڑی جائے تو قدیم شمشیری جنگ کی طرح اس کا نقصان صرف مقاتل افراد تک یا جنگ کے میدان تک محدود نہیں رہے گا ۔ بلکہ پورے کرۂ ارض پر اس کے اثرات پھیل جائیں گے ۔ حتیٰ کہ اس کے بعد زمین ہی ناقابل رہائش ہو جائے گی۔ پھر جب خود انسانی دنیا ہی باقی نہ رہے گی تو وہ کون سا مقام ہوگا جہاں آپ جنگ جیت کر اپنا نظام خیر قائم کریں گے ۔ ۴۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی تفسیر تفہیم القرآن چھ جلدوں میں ہے ۔ اس کی پانچویں جلد میں سورہ الصف (آیت ۷) کی تشریح کے تحت انجیل برناباس کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ اس انجیل کے تعارف اور اس کے اقتباسات پر تفہیم القرآن میں دس صفحے شامل کیے گئے ہیں ۔ اس انجیل کے بیانات مسلمانوں کے عقائد سے بہت زیادہ ملتے جلتے ہیں ۔ حتیٰ کہ اس میں ”محمد“ کا نام بھی موجود ہے مثلاً : سردار کاہن نے مسیح سے پوچھا کہ وہ آنے والا کس نام سے پکارا جائے گا۔ مسیح نے کہا کہ ”سواس کا مبارک نام محمد ہے“ ۔ اس انجیل میں درج ہے : ”اے محمد، انتظار کر۔ کیوں کہ تیری ہی خاطر میں جنت، دنیا اور بہت سی مخلوق پیدا کروں گا ۔ اور اس کو تجھے تحفہ کے طور پر دوں گا۔ یہاں تک کہ جو تیری تبریک کرے گا اسے برکت دی جائے گی اور جو تجھ پر لعنت کرے گا اس پر لعنت کی جائے گی“ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے علاوہ مولانا عبد الماجد دریا بادی وغیرہ نے بھی انجیل برناباس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page