Urdu book · علماء اور دورِ جدید

دورِ جدید سے بے خبری

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

چیز کو استدلال کی بنیاد بنایا گیا ہے وہ صرف متکلم کا عقیدہ ہے، وہ متکلم اور مخاطب دونوں کا مشترک مسلمہ نہیں۔ جدید انسان اس طرح کے معاملات میں صرف تاریخ کو معیار مانتا ہے۔ اور تاریخ ان میں سے کسی بات کا بھی ذکر نہیں کرتی۔ مدون انسانی تاریخ میں نہ انبیار کا کوئی ذکر ہے ۔ اور نہ ان کے متحد الخیال ہونے کا۔ اسی طرح تاریخ میں نہ مکذبین انبیار کا ذکر ہے اور نہ ان کے مختلف الخیال ہونے کا۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا مضمون (عقل کا فیصلہ) بتاتا ہے کہ وہ اس بات کو نہیں جانتے تھے کہ موجودہ زمانہ میں عقلی استدلال کا معیار کیا ہے۔ انھوں نے نقلی دلیل پر مبنی کرتے ہوئے ایک مضمون لکھا اور اس کے اوپر عقلی استدلال کا عنوان قائم کر دیا۔ خلاصہ بحث ۱۔ علما اسلام کو سب سے پہلے شعوری طور پر یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ انھیں عملی سیاسیات سے مکمل طور پر الگ رہنا ہے ۔ ان کا اصل کام وہ ہے جو علم و فکر اور دعوت و اصلاح کے میدان میں انجام دیا جاتا ہے۔ سیاسی معاملات میں بوقت ضرورت وہ اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔ مگر سیاسی معاملات میں عملی حصہ لینا ان کے لیے کسی حال میں درست نہیں۔ ۲۔ علما کو مروجہ دینی تعلیم کے ساتھ لازمی طور پر عصر حاضر کے افکار سے بھی واقف ہونا چاہیے۔ اس کے بغیر وہ عصر حاضر میں اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا نہیں کر سکتے۔ ۳۔ علما کے یہاں ایک دوسرے کے خلاف تنقید کی کھلی اجازت ہونا چاہیے۔ اس کے بغیر لوگوں میں ذہنی جمود کا ٹوٹنا اور حکیمانہ بصیرت کا پیدا ہونا ممکن نہیں۔ ۴۔ علما کے درمیان برداشت کے مزاج کو فروغ دینا چاہیے اور اختلاف کے باوجود اتحاد کا ماحول پیدا کرنا چاہیے۔ جب تک ایسا نہ ہو، ملت کے اندر کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا۔ ۵۔ امت کی تعلیم و تربیت کے ساتھ دوسرا اہم کام جو علما کو انجام دینا ہے وہ دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی غیر مسلم قوموں کو دین حق کا پیغام پہنچانا اور اس کے جزوی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کو آخری حد تک جاری رکھنا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page