Urdu book · علماء اور دورِ جدید

ایک حدیث

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

سے مراد ہے کسی انسانی مجموعہ کے اوپر سیاسی حاکم ہونا۔ کونیت بشری کے اعتبار سے کوئی سماج جس حالت میں ہوگا اسی کے مطابق اس سماج کے درمیان سیاسی ڈھانچہ بنے گا۔ علماء ابدی طور پر کونیت بشری کے نگران ہیں۔ ان کا کام یہ ہے کہ وہ ہر دور میں تکوین شعور یا شاکلۂ انسانی کی تصحیح کرتے رہیں۔ اور امارت انسانی یا سیاسی ڈھانچہ کی تولیت کا کام اہل سیاست کے حوالے کردیں۔ زندگی کا نظام جب تک تقسیم عمل کے اس اصول پر چلے گا، وہ درست رہے گا۔ اور جب یہ تقسیم عمل باقی نہ رہے تو زندگی کا نظام بھی بگڑ جائے گا۔ صحیح انسانی شاکلہ سے صحیح نظام حکومت برآمد ہوتا ہے اور غلط انسانی شاکلہ سے غلط نظام حکومت۔ زندگی میں کونیت بشری کا معاملہ امارت بشری سے زیادہ اہم ہے۔ کونیت بشری کی حیثیت بنیاد کی ہے اور امارت بشری کی حیثیت اوپری ڈھانچہ کی۔ ظاہر میں لوگوں کو اگر چہ بنیاد کے مقابلہ میں اوپری ڈھانچہ زیادہ اہم دکھائی دیتا ہے۔ مگر حقیقت میں شخص ہمیشہ بنیاد کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکام کے مقابلہ میں علماء کا درجہ زیادہ ہے اور ان کا ثواب بھی زیادہ۔ آغازِ اسلام کی اس ہدایت نے امت کے لیے آئندہ سرگرمیوں کا رخ متعین کر دیا۔ دورِ اول میں اصحاب رسول کی ایک جماعت جہاد کے عمل میں مشغول ہوئی۔ اسی کے ساتھ ان کی دوسری جماعت، مثال کے طور پر عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عمر وغیرہ، علمی اور دعوتی شعبوں میں اپنے آپ کو وقف کیے رہے۔ صحابہ کے بعد تابعین اور تبع تابعین میں بھی یہی تقسیم قائم تھی ۔ لوگ مختلف علمی میدان، تفسیر، حدیث، فقہ اور ان سے تعلق رکھنے والے دوسرے علمی شعبوں میں مشغول رہے۔ تقریباً ایک ہزار سال تک یہ صورتِ حال قائم رہی۔ یہ لوگ قراء، محدثین، فقہاء، علماء، دعاۃ، صوفیاء اور معلمین وغیرہ کی صورت میں یکسوئی کے ساتھ اپنے مخصوص میدان میں سرگرم عمل رہے۔ اسی تقسیم کار کا یہ نتیجہ تھا کہ وہ عظیم علمی اور دعوتی تاریخ بنی جو آج ملتِ اسلامی کا انتہائی قیمتی اثاثہ ہے۔ اگر تمام کے تمام لوگ جہاد و قتال کی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے تو یقینی طور پر اسلام کی تاریخ میں ایک خلا پیدا ہو جاتا جو قیامت تک کبھی دوبارہ پر نہ ہوتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page