Urdu book · علما اور دینی مدارس

تمهید

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

تقسیم ہند سے پہلے کے دور میں دو قومی نظریے کا ہنگامہ اٹھا۔ مولاناحسین احمد مدنی نے اس کا جواب دیتے ہوئے 1937 میں کہا کہ ”فی زمانہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں“۔ اس کے رَدّ میں علامہ اقبال نے اپنا مشہور فارسی قطعہ لکھا جس کا پہلا شعر یہ تھا: عجم ہنوز نداند رموز دین و ورنہ ز دیوبند حسین احمد ایں چہ بو العجبی است اس وقت اقبال احمد سہیل ایڈوکیٹ نے فارسی نظم کی صورت میں اس کا مدلل جواب دیا جس کے دو شعر یہ ہیں: بہ دیو بند گرا، گر نجات می طلبی کہ دیونس سلح شور و دانش تو صبی است بگیر راہ حسین احمد از خدا خواہی کہ وارث است نبی را و ہم ز آل نبی است برادر بزرگ مولانااقتبال احمد سہیل مرحوم سے مجھے زندگی کی پہلی سوچ ملی۔ چنانچہ نوجوانی کی عمر ہی میں علما اور تحریک مدارس سے میرا رشتہ جڑ چکا تھا جو پھر کبھی ختم نہ ہوا۔ مدرسہ کی دنیا سے مسلسل میرا ربط رہا ہے۔ میری تعلیم مدرسہ ہی میں ہوئی۔ مدارس سے وابستہ افراد سے مسلسل میری ملاقاتیں رہی ہیں۔ میں باربار مدارس کے اجتماعات اور پروگراموں میں شریک ہوتا رہا، وغیرہ۔ اس موضوع پر میری متفرق تحریریں شائع ہوتی رہی ہیں۔ وحید الدین خاں مئی 2000 (دین و شریعت، صفحہ 77-74) زیر نظر مجموعہ میں مولانا صاحب کے ان مضامین کو شامل کیا گیا ہے جن کو انہوں نے علما اور دینی مدارس کے حوالے سے ماہنامہ الرسالہ، ڈائری اور سفر ناموں میں لکھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو دعوتی مقصد کے لیے قبول فرمائے۔ (ناشر)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page