علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
دیوالیہ ہو گیا۔ اس کی ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ اس نے کتاب کی لاگت کا کم اندازہ لگایا۔ چنانچہ اس نے جو قیمت مقرر کی اس پر اس کو آٹھ سینٹ فی نسخہ نقصان ہو رہا تھا۔ اگر کتاب کم بکتی تو وہ گھاٹے سے بچ سکتا تھا۔ مگر جب اس کو اپنی غلطی کا علم ہوا تو نقصان کی مقدار اس کی برداشت سے باہر ہو چکی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اتنی زبردست کامیابی کے باوجود اس کا کاروبار ختم ہو گیا۔ یہی حال تمام اجتماعی اقدامات کا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک نعرہ کسی وجہ سے لوگوں کو اپیل کر جائے اور بہت سے لوگ اس کے ساتھ چل پڑیں۔ لیکن اگر اس میں دور اندیشی اور حقیقت پسندی نہیں ہے، اگر اقدام کے وقت حالات کا صحیح اندازہ نہیں لگایا گیا ہے۔ تو عین ممکن ہے کہ نعرہ اور اس کے ساتھ دینے والے سارے لوگ ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہو جائیں۔ آخرت کے پہلو سے بھی اس کے اندر نصیحت موجود ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک دینی کام کافی پھیل جائے۔ لاکھوں لوگ اس حلقہ میں شامل ہو جائیں۔ اس کے رہنماؤں کو اعزاز اور قدر و منزلت حاصل ہو جائے۔ لیکن اگر اس کے پیچھے صحیح اسلامی جذبہ نہیں ہے تو آخرت کے اعتبار سے اس کا وہی انجام ہوگا جو امریکی ناشر کا ہوا۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ، 20 دسمبر 1967، صفحہ 10) زمانے سے بے خبری علما نے کہا ہے کہ جو شخص اپنے زمانے کے احوال سے واقف نہ ہو، وہ جاہل ہے: مَنْ لَّمْ یَدْرِ بِعُرْفِ أَهْلِ زَمَانِهِ فَهُوَ جَاهِلُ ( روا المحتار لابن عابدین ، جلد 3 ، صفحہ 724)۔ یہ بات ذاتی عمل کے لیے نہیں ہے، بلکہ ان لوگوں کے لیے ہے، جو دوسروں کے درمیان کام کرنے کے لیے اٹھیں۔ ذاتی عمل کے لیے محدود علم بھی کافی ہے۔ مگر اجتماعی معاملات پر لکھنے اور بولنے کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے کہ آدمی دوسروں کے بارے میں بھر پور واقفیت رکھتا ہو۔ جو اپنے زمانے کے احوال سے بے خبر ہو اس کے لیے مفتی یا قائد بننا سرے سے جائز ہی نہیں۔ (ڈائری ، 12 جنوری 1996)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader