اسلام کا نیا دور
Urdu book, p. 158
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کا نیا دور (مدرسہ مصباح العلوم، آسنصول، کی فرمائش پر زیر نظر ”پیغام“ دیا تھا) چودھویں صدی ہجری پر اسلام کا ایک دور ختم ہوا ہے، پندرھویں صدی ہجری میں اسلام کے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آج وہ تمام موافق حالات مکمل طور پر پیدا ہو چکے ہیں جو اسلام کا نیا دور شروع کرنے کے لیے درکار ہیں۔ جب رات کا اندھیر ختم ہوتا ہے اور نئے دن کا سورج نکلنے کے آثار ظاہر ہوتے ہیں، تو یہ فطرت کی طرف سے اس بات کا خاموش اعلان ہوتا ہے کہ روز و شب کی ایک گردش پوری ہو گئی۔ اب اس کی دوسری گردش شروع ہونے والی ہے۔ جو شخص چاہے اس کی روشنی میں اپنا سفر شروع کرے اور منزل پر پہنچ جائے۔ صبح کے وقت سورج کا نکلنا ہر آدمی کو دو چیزوں کے درمیان کھڑا کر دیتا ہے۔ ایک وہ موقع جو گزر چکا۔ دوسرا وہ موقع جو سامنے کھلا ہوا موجود ہے۔ جو شخص بھی ان مواقع کو استعمال کرے گا، وہ لازماً اپنی منزل پر پہنچ جائے گا۔ تاہم امتحان کی اس دنیا میں مواقع صرف اٹھیں کے لیے ہوتے ہیں، جو مواقع کو استعمال کریں۔ جو لوگ مواقع کو استعمال کرنے میں ناکام رہیں، ان کے لیے کوئی موقع موقع نہیں۔ کامیابی دوسرے لفظوں میں موجود مواقع کو استعمال کرنے ہی کا دوسرا نام ہے۔ کوئی شخص پچھلے کل میں اپنا سفر شروع نہیں کر سکتا۔ سفر جب بھی شروع ہو گا آج سے شروع ہوگا، نہ کہ گزرے ہوئے ”کل“ سے۔ جو لوگ آج کے دن بھی گزرے ہوئے کل میں جئیں ان کے لیے اس دنیا میں بربادی کے سوا اور کوئی چیز مقدر نہیں۔ جو مواقع گزر چکے انہیں بھول جائیے۔ جو مواقع آج موجود ہیں ان کو جانیے اور انہیں استعمال کیجیے، ان شاء اللہ، آپ یقیناً کامیاب ہوں گے۔ یاد رکھیے، گزرا ہوا دن کبھی کسی کے لیے واپس نہیں آیا۔ گزرا ہوا دن آپ کے لیے بھی واپس آنے والا نہیں۔ (الرسالہ، جون 1985)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader