Urdu book · علما اور دینی مدارس

اعظم گڑھ کا سفر

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

اہل علم عام طور پر یہ شکایت کرتے ہیں کہ مدارس میں تعلیم پائے ہوئے افراد کے اندر عام طور پر تعصب اور کٹرپن کا مزاج ہوتا ہے، جب کہ کالجوں اور یوتی ورسٹیوں میں تعلیم پائے ہوئے افراد کے اندر عام طور پر تعصب اور کٹرپن کا مزاج نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہی ہے کہ مدارس میں ”تعلیم برائے مسلک“ کا اصول رائج ہے، جب کہ سیکولر ادارے ”تعلیم برائے تعلیم“ کے اصول پر چلائے جاتے ہیں۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ ”تعلیم برائے مسلک“ کا ایک بہت بڑا نقصان ہے، وہ یہ کہ ان اداروں میں آزادانہ تفکیر کا ماحول نہیں ہوتا۔ اور آزادانہ تفکیر کا خاتمہ ہمیشہ ایک بھاری قیمت پر ہوتا ہے، وہ یہ کہ ایسے ماحول میں تخلیقی فکر (creative thinking) ختم ہو جاتی ہے۔ تخلیقی فکر کا نشوونما نہ پانا اتنا بڑا نقصان ہے جس کی تلافی کسی بھی دوسری چیز سے ممکن نہیں۔ مدرسۃ الاصلاح سے رات ہی کو ہم لوگ بڑھیا واپس آئے، جو تقریباً تین میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ ہم نے بڑھیا میں رات گزاری۔ یکم جنوری 2009 کی صبح کو ہم لوگ قافلے کی صورت میں چھاؤں کی طرف روانہ ہوئے۔ چھاؤں میں ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا کھایا اور یہاں کئی گھنٹے قیام کیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر احمد صفی انصاری کے ساتھ ہم لوگ اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن پہنچے۔ واپسی میں ہماری گاڑی بارہ گھنٹے لیٹ تھی۔ یہ تاخیر کہر (fog) کی وجہ سے ہوئی تھی۔ دوبارہ ہم لوگ اسٹیشن پہنچے تو گاڑی آچکی تھی۔ ہم لوگ گاڑی پر سوار ہو گئے۔ اعظم گڑھ اسٹیشن سے ہم دہلی کے لیے روانہ ہوئے تو رات کے تقریباً بارہ بج چکے تھے۔ یہ رات کا وقت تھا، اس لیے زیادہ وقت سونے میں گزرا۔ اگلے دن 2 جنوری 2009 کو رات ایک بجے ہم لوگ دہلی پہنچے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page