ذہین لوگوں کا قبرستان
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
ذہین لوگوں کا قبرستان تاریخ ذہین لوگوں کا قبرستان ہے۔ یہ بات اتنی زیادہ عام ہے کہ مشکل ہی سے اس میں کسی کا استثناء (exception) معلوم کیا جا سکتا ہے۔ ایک عرب شیخ نے کہا تھا: السُّعُوْدِيَّةُ مَقْبَرَةٌ لِعُلَمَاءِ الْمُسْلِمِين (سعودی عرب مسلم علما کا مقبرہ ہے)۔ یہی بات عمومی طور پر اس طرح کہی جاسکتی ہے: التَّارِيخُ مَقْبَرَةٌ لِلْأَذْ كِيَاءِ (تاریخ ، ذہین لوگوں کا قبرستان ہے)۔ یہ معاملہ ان لوگوں کا ہے، جن کو خالق نے ذہین (brilliant) انسان کی حیثیت سے پیدا کیا، یعنی اعلیٰ ذہن والا انسان۔ یہ لوگ گویا کہ خالق کی امید (hope) تھے۔ اپنی اعلیٰ صلاحیت کی وجہ سے وہ بڑے بڑے کام کر سکتے تھے۔ ان کے اندر یہ صلاحیت تھی کہ وہ پوری تاریخ کو ایک نیا رخ دے سکیں۔ وہ ایک نئی بر تر تہذیب پیدا کر سکیں۔ لیکن ان اعلیٰ صلاحیت کے لوگوں میں سے تقریباً ہر ایک کا حال یہ ہوا کہ وہ اپنے فطری امکانات (potential) کو واقعہ (actual) نہ بنا سکا۔ ایک محدود مدت کے بعد وہ مر کر اس دنیا سے چلا گیا۔ اس قسم کے غیر معمولی افراد کی مثالیں ماضی میں بھی تھیں اور آج بھی موجود ہیں۔ غیر معمولی ذہانت رکھنے والوں کی اس ناکامی کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ جو آدمی غیر معمولی صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوا، اس نے فوراً ہی تواضع (modesty) کھودی۔ وہ ایک مغرور (arrogant) انسان بن گیا۔ اس تاریخی المیہ کا واحد سبب یہی ہے۔ اس دنیا میں کسی انسان کی سب سے بڑی مثبت صفت تواضع ہے، اور سب سے بڑی منفی صفت غرور (arrogance)۔ یہی واحد سبب ہے، جس کی بنا پر اعلیٰ صلاحیت کے لوگ صرف ناکامی کی تاریخ بنا سکے، کامیابی کی تاریخ بنانا، ان سے ممکن نہ ہو سکا۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں تواضع کامیابی کی ضامن ہے اور غرور کسی آدمی کو ناکامی کے سوا کہیں اور نہیں پہنچاتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader