اعلائے کلمۃ الاسلام
Urdu book, p. 379
By Maulana Wahiduddin Khan
دانوں میں سے کوئی بھی سائنس دان معروف معنوں میں منکر خدا یا منکر مذہب نہیں تھا، مگر ان کی تحقیقات نے بالواسطہ طور پر جو فکر پیدا کیا وہ یہی تھا۔ مثال کے طور پر نیوٹن اور دوسرے سائنس دانوں نے یہ دکھایا کہ کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں ایک پرنسپل آف کازیشن کام کر رہا ہے۔ قدیم تو ہماتی زمانے میں انسان نیچر کو پر اسرار سمجھتا تھا۔ فطرت کے ہر واقعے کے بارے میں وہ یہ گمان کرتا تھا کہ جو ہوا ہے وہ پر اسرار طور پر ہو گیا ہے۔ مگر سائنس نے جب واقعات کے پیچھے اس کا ایک مادی سبب دریافت کیا تو شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ مان لیا گیا کہ ان کا خالق خدا نہیں ہے بلکہ کچھ اسباب ہیں جو واقعات کی تخلیق کر رہے ہیں۔ چنانچہ جدید ملحد مفکرین کی طرف سے یہ دعویٰ کر دیا گیا : If events are due to natural causes, they are not due to یہ الحاد جو علم کے زور پر اٹھا، یہی وہ چیز تھی جس کے بعد وہ صورتِ حال پیدا ہو گئی جس کو کلمۂ اسلام کی مغلوبیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ عام طور پر لوگ خدا کے وجود پر شک کرنے لگے ۔ مذہب کی صداقت ان کے نزدیک مشتبہ ہو گئی۔ اسلام ان کو دور سائنس سے پہلے کا مذہب دکھائی دینے لگا۔ یہ ایک coincidence تھا کہ جس زمانے میں مسلم سلطنتوں کو زوال ہوا تقریباً اسی زمانے میں اسلام کی نظریاتی صداقت کو بھی مشتبہ سمجھا جانے لگا۔ تاہم یہ ایک زمانی اتفاق تھا، ورنہ ایسا ہر گز نہ تھا کہ مسلمانوں کے سیاسی زوال کی بنا پر اسلام کا نظریاتی زوال پیش آ گیا ہو ۔ مگر اس دَور کے تقریباً تمام مسلم مفکرین اس غلط فہمی کا شکار رہے ۔ انہوں نے معاملے کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیے بغیر یہ سمجھ لیا کہ مسلمانوں کے سیاسی زوال ہی کا نتیجہ ہے کہ اسلام کو نظریاتی زوال پیش آ رہا ہے۔ اس غلط اندازے کی بنا پر انہوں نے ساری دنیا میں سیاسی جہاد شروع کر دیا۔ مسلم ملکوں اور غیر مسلم ملکوں دونوں جگہ پر کوشش کی جانے لگی کہ مسلمان کے سیاسی اقتدار کا دور دوبارہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader