Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

قومیت کا مسئلہ

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

the Muslim world of the 19th century before the rise of Nationalism. (Encyclopædia Britannica, Vol. 7, p. 719) دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کا نقشہ بدلا تو مسلمان فکری اعتبار سے ایک پیچیدہ صورت حال میں مبتلا ہوگئے۔ جو لوگ عالمی قومیت کے ڈھانچہ میں اپنی سیاسی شناخت بنائے ہوئے تھے، اب اُن کو مقامی قومیت کے ڈھانچے میں دوبارہ اپنی سیاسی شناخت کو تلاش کرنا پڑا۔ اس نازک وقت میں، میرے علم کے مطابق، پوری مسلم دنیا میں صرف ایک عالم تھا جس نے اس سوال کا جواب فراہم کرنے کی کوشش کی۔ یہ مولانا سید حسین احمد مدنی (1879-1957) تھے۔ انہوں نے 1947 سے پہلے کی ہنگامی سیاست کے زمانہ میں یہ جرأتمندانہ اعلان کیا کہ : فی زمانہ قو میں اوطان سے بنتی ہیں (شرح ارمغان حجاز، یوسف سلیم چشتی، 1982، نئی دہلی، صفحہ 272)۔ یہ بلاشبہ ایک اجتہادی رہنمائی تھی۔ مگر بدقسمتی سے مولانا موصوف کی وفات کے بعد خود دیوبند کے علماء نے یہ اعلان کر کے اُس کو کالعدم کر دیا کہ حضرت نے اس سلسلہ میں جو فرمایا وہ صرف ایک خبر (informal observation or report) تھی، وہ انشا (formal legal declaration) نہ تھی۔ یہ معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ بے حد نازک معاملہ ہے۔ ضرورت ہے کہ اس معاملہ میں انتہائی غیر جانبدارانہ انداز کے ساتھ غور کیا جائے۔ مولانا حسین احمد مدنی کے موقف سے رجوع کی صورت میں نظری یا اعتقادی پوزیشن یہ ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کی قومیت (nationality) اسلام ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مسلمانوں کی سیاسی وفاداری مشترک طور پر اُن کے مذہب کے ساتھ وابستہ ہے۔ اب جب کہ ہر ملک میں نیشنلٹی کو وطن (home-land) کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے تو یہ نظریہ ہر جگہ مقامی تقاضوں سے متصادم ہوگیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page