Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے رام کے وجود پہ ہندوستان کو ناز اہل وطن سمجھتے ہیں اس کو امام ہند 1947ء سے پہلے کوئی مسلمان اقبال کے ان اشعار پر بھڑکتا نہیں تھا۔ آج کوئی ہندو یا مسلمان ایسی کوئی بات کہہ دے تو فوراً اخباروں میں بیانات اور مراسلے چھپنے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نااہل لیڈروں نے غیر ضروری طور پر مسلمانوں کو ان باتوں کے بارے میں حساس بنا دیا ہے۔ (ناگپور کا سفر (1994 حب الوطنی اور قومی یکجہتی مسلم علما کی ایک نشست تھی۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ مسلمانوں کے اوپر یہ غلط الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ ملک کی مین اسٹریم (مکھیہ دھارا) میں نہیں ہیں، وہ بلاشبہ ہیں۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک یہ شکایت بالکل بجا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیسے ۔ میں نے کہا کہ مین اسٹریم میں اپنے آپ کو شامل کرنے کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے کہ آپ یہ مانیں کہ ہندو اور مسلمان دونوں ایک قوم ہیں۔ جب کہ یہی بات اب تک حاصل نہیں ہوئی۔ میں نے کہا کہ ہندوستان کا ہر عالم جو پاسپورٹ بنواتا ہے وہ نیشنلٹی کے خانہ میں اپنے آپ کو اسی طرح انڈین لکھتا ہے جس طرح ایک ہندو لکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندو اور مسلمانوں دونوں کی نیشنلٹی ایک ہے اور دونوں ایک قوم ہیں۔ مگر علما نے ابھی تک اس کا اعلان نہیں کیا۔ 1947ء سے پہلے مسلم لیگ کی تحریک کے زیر اثر تمام مسلمانوں کے ذہن میں یہ بھر اگیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قوم ہیں۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر وہی ذہن اب تک چلا جا رہا ہے۔ دونوں کو نیشنل مین اسٹریم میں لانے کے لیے پہلا کام یہ ہے کہ علما کی طرف سے ایک متفقہ اعلان شائع ہو کہ قومیت کا تعلق وطن سے ہوتا ہے۔ چونکہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page