ہمارے اور آخرت کے درمیان صرف ایک غیر یقینی دیوار حائل ہے
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
ہمارے اور آخرت کے درمیان صرف ایک غیر یقینی دیوار حائل ہے چندنالا (دھنباد) میں ایک پرانی کوئلہ کی کان تھی جو ۱۹۵۳ء سے بند تھی۔ ساڑھے چار سو فٹ گہری اس کان میں دھیرے دھیرے پانی بھر گیا۔ اس سے ۸۰ فٹ کے فاصلہ پر دوسال پہلے ایک اور کان کھودی گئی۔ عالمی بنک اور بیرونی ماہرین کی مدد سے تیار کی ہوئی یہ کان جدید طرز کی مشینوں سے آراستہ تھی۔ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۱ء کو اس کان میں ایک بھیانک حادثہ ہوا۔ دونوں کانوں کے درمیان ۱۰۰ فٹ کا فاصلہ کافی محفوظ فاصلہ سمجھا جاتا تھا۔ مگر اچانک اس کے اندر تقریباً ۸۰ فٹ چوڑ انگشاف ہو گیا اور اس کے اندر سے پرانی کان کا پانی نئی کان میں اتنی تیزی سے داخل ہوا کہ صرف تین منٹ کے اندر نئی کان بھر گئی۔ ۴۷ مزدور اور انجینئر جو اس وقت کان کے اندر کام کر رہے تھے ایک سو ملین گیلن سے بھی زیادہ پانی کے سیلاب میں غرق ہو گئے۔ صرف ایک شخص بھگوان سنگھ (مونگیر) بچا جو حادثہ سے صرف چند منٹ پہلے باہر آگیا تھا ۔ یہ واقعہ حیرت انگیز طور پر ہماری زندگی کی تصویر ہے۔ ہماری موجودہ دنیا اور آخرت کی دنیا کے درمیان موت کی غیر یقینی دیوار حائل ہے ۔ ہر آن یہ اندیشہ ہے کہ یہ دیوار ٹوٹ جائے اور آخرت کے حقائق ایک بے پناہ سیلاب کی طرح ہمارے اوپر پھٹ پڑیں۔ اس وقت کوئی زور اور کوئی لفظی بازی گری کام نہ آئے گی ۔ آدمی بالکل بے سہارا ہو کر اپنے مالک کے سامنے کھڑا ہوگا۔ وہ سارے لوگ ناکامی اور بربادی کے دائمی جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے جو دنیا کی دلفریبیوں میں اس قدر گم تھے کہ کوئی نصیحت کی بات سننے کے لئے تیار ہی نہ ہوتے تھے صرف وہ شخص بچے گا جس نے مالک کائنات کے سامنے حساب کے لئے پیش ہونے سے پہلے خود اپنا حساب کر لیا ہوگا۔ بہت سے دیوار اٹھانے والے اپنی دیوار کو گرا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ جو اپنے کو دوسروں سے بڑا سمجھ رہے ہیں، وہ دوسروں کے پیروں تلے روندے جائیں گے ۔ یہ اس دن ہو گا جب خدا اپنے فرشتوں کے ساتھ ظاہر ہوگا، جب سارے انسانوں سے پوچھا جائے گا کہ انھوں نے اپنے پیچھے کیا چھوڑا اور اپنے آگے کے لئے کیا روانہ کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader