Urdu book · زلزلۂ قیامت

بہت سے چمک دار سکے آخرت کے بازار میں کھوٹے ثابت ہوں گے

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

بہت سے چمک دار سکے آخرت کے بازار میں کھوٹے ثابت ہوں گے سعدی شیرازی کا ایک شعر ہے خواہ دنیا میں وہ کتنے ہی بزرگ زاده نادان پر شهرو داماند کامیاب دکھائی دیتے ہوں که در دیار غریبش به پیچ نسئاند شہر داما‘‘ کے معنی ہیں رواج دادۂ حکومت۔ اس چھوڑ دیا ہے۔ جو لوگ شیطان کے پسند کیے ہوئے سے مراد وہ نقود یا سکے ہیں جن کو کسی حکومت نے راستوں پر چلتے ہیں، ان کو یہاں بہت جلد عزت اور رائج کر رکھا ہو۔ ایسے سکے کی قیمت صرف اس حکومت ترقی حاصل ہو جاتی ہے۔ مگر اس قسم کے لوگ جیسے ہی کے حدود میں ہوتی ہے۔ اس سے باہر اس کی کوئی قیمت اگلی دنیا میں داخل ہوں گے وہ بالکل بے قیمت ہو جائیں نہیں ہوتی۔ سعدی شیرازی کہتے ہیں کہ بڑے آدمی گے کیونکہ اگلی دنیا وہ ہے جہاں شیطان کی عمل داری کے کوئی صاحپزادے جو خود نادان ہوں، وہ اپنے مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ جو لوگ شیطان کی سرپرستی وطن میں اپنے باپ کی وجہ سے عزت دار بنے رہتے کی وجہ سے موجودہ دنیا میں عزت دار بنے ہوئے تھے ہیں، مگر اپنے وطن سے باہر اسی طرح بے قیمت ہو جاتے وہ وہاں مکھی اور مچھر سے زیادہ بے قیمت ہوں گے ہیں جس طرح ایک ملک کا نوٹ دوسرے ملک میں کیوں کہ وہاں عزت صرف اس کے لئے ہے جس کو خدا اپنی قیمت کھو دیتا ہے۔ اپنی سرپرستی میں لے لے۔ موجودہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کو آزاد موجودہ صدی کے ربع اول کے آخر میں خلافت تحریک اٹھتی اور سارے ملک میں طوفان کی طرح پھیل گئی۔ یہ تحریک اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے سیاسی تھی۔ مگر تحریک نے جو نعرے اور دلائل استعمال کیے وہ سب مذہبی تھے۔ چنانچہ جو لوگ اس تحریک سے متاثر ہوئے ان میں مذہبیت اتنے زور شور کے ساتھ پیدا ہوئی کہ ” قرآن کی تلاوتیں اور تہجد کی نمازیں بھی عام فیشن بن گئیں۔“ یہ مثال بتاتی ہے کہ کس طرح ایک سیاسی تحریک بھی مذہبی اخلاقیات پیدا کر دیتی ہے۔ اگر چہ اس قسم کی اخلاقیات کی کوئی اسلامی قیمت نہیں۔ اسلامی قیمت صرف ان اخلاقیات کی ہے جو جہنم کے شعلوں کو دیکھ کر آدمی کے اندر ابھری ہو نہ کہ سیاسی مسائل کو دیکھ کر ۔ دنیا کے لحاظ سے ان اخلاقیات کی اہمیت ہے جو دیر پا ہوں اور آخرت کے لحاظ سے وہ اخلاقیات اہمیت رکھتی ہیں جو خدا کے سامنے جوابدہی کے احساس سے ابھری ہوں۔ مگر ہنگامی تحریکوں میں دونوں میں سے کوئی قدر بھی موجود نہیں ہوتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page