وہ خوابوں کے فریب میں مبتلا ہے جو
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ خوابوں کے فریب میں مبتلا ہے جو۔۔۔ چوتھی صدی ہجری کے آخر میں جب اسپین میں طوائف الملوکی شروع ہوئی اور صوبوں کے گورنر مرکز سے بغاوت کرنے لگے تو چھوٹی چھوٹی سی آزاد حکومتیں بن گئیں۔ مثلاً قرطبہ میں بنو حمود، اشبیلیہ میں بنو عباد، بطلیوس میں ابن انطس، وغیرہ۔ اشبیلیہ میں بنو عباد کی حکومت سنہ ۵۵ھ میں قائم ہوئی اور ۸۰ برس رہ کر ختم ہوگئی۔ شاہ مراکش یوسف بن تاشفین نے جب اسپین پر چڑھائی کی تو اس کا آخری فرماں روا معتمد بن عباد اشبیلیہ کے تخت پر تھا۔ سنہ ۴۸۴ھ میں اس نے معتمد کو گرفتار کر لیا اور اس کو مراکش کے ایک مقام انغات میں قید کر دیا۔ چار سال قید میں رہ کر وہ ۴۸۸ھ میں مر گیا۔ معتمد بن عباد جس زمانہ میں قید میں تھا، عید کے دن اس کی لڑکیاں اس سے ملنے کے لئے آئیں، اس وقت اس کے غم انگیز تاثرات اشعار کی صورت میں ڈھل گئے ۔ چند اشعار یہ ہیں : فيما مضى كنت بالاعياد مسرورا _ فساؤك العيد في انغات مأسورا ترى بناتك في الاطمار جائعة _ يغزلن للناس ما يمكن تطميرا يطأن في الطين والاقدام حافية _ كانها لم تطأ مسكا وكافورا قد كان دهرك ان تامره امتثلا _ فرداك الدهر منهيا و مامورا من بات بعدك في ملك يسُرُّ به _ فانما بات بالاحلام مغرورا ماضی میں تو خوشی کے ساتھ عید مناتا تھا، مگر آج انغات کے قید میں تیرے لئے عید کی کوئی خوشی نہیں۔ تو اپنی بیٹیوں کو دیکھ رہا ہے کہ وہ بھوکی، پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ وہ لوگوں کے لئے سوت کاتی ہیں اور ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔ وہ کیچڑ میں ننگے پاؤں چلتی ہیں، گویا کہ ان پیروں نے کبھی مشک اور کافور کو روندا ہی نہیں۔ ایک وقت وہ تھا کہ زمانہ تیرے حکم کا تابع تھا، آج زمانہ نے تجھ کو محروم و محکوم بنا دیا ہے۔ تیری اس حالت کو دیکھنے کے بعد بھی اگر کوئی شخص حکومت پر خوش ہوتا ہے تو وہ خوابوں کے فریب میں مبتلا ہے۔ انسان دنیا کی عزت اور کامیابی حاصل کرنے میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آ جاتی ہے۔ اور پھر اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ وہ تھا ہی نہیں جس میں وہ ساری عمر مشغول رہا۔ اصل مسئلہ آخرت کا تھا نہ کہ دنیا کا۔ آخرت کی رسوائی، آخرت کی محرومی، آخرت کا عذاب، آخرت میں بے جگہ ہو جانا، یہ وہ مسائل ہیں جن کے لئے آدمی کو بے چین ہونا چاہئے۔ نہ یہ کہ وہ دنیا میں الجھا رہے۔ یہاں تک کہ جب اس کو موت آئے تو معلوم ہو کہ عزت اور کامیابی کے سارے سامان جمع کرنے کے بعد بھی اپنی زندگی کے اگلے مرحلہ میں وہ اس حال میں داخل ہو رہا ہے کہ وہاں کی ابدی دنیا میں اپنی جگہ بنانے کے لئے اس کے پاس کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader