Urdu book · زلزلۂ قیامت

زلزلہ

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

زلزلہ زمین کا اندرونی حصہ نہایت گرم سیال کی شکل میں ہے جس کا مشاہدہ آتش فشاں پہاڑ سے نکلنے والے لاوا کی صورت میں ہوتا رہتا ہے۔ یہ مادہ زمین کی سطح کو متاثر کرتا ہے جس سے زمین کے اوپر زبردست گڑگڑاہٹ اور جھٹکے پیدا ہوتے ہیں ــ اسی کا نام زلزلہ ہے ۔ زلزلہ انسان کے اوپر قدرت کا ایسا حملہ ہے جس میں فیصلہ کا اختیار تمام تر دوسرے فریق کو ہوتا ہے۔ زلزلہ کے مقابلہ میں انسان بالکل بے بس ہے۔ یہ زلزلے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم ایک سرخ پگھلے ہوئے نہایت گرم مادہ کے اوپر آباد ہیں جس سے صرف ۵۰ کلو میٹر کی ایک پتلی سی زلزلہ گویا چھوٹے پیمانہ کی قیامت ہے ۔ جب دہشت ناک گڑگڑاہٹ کے ساتھ زمین پھٹ جاتی ہے۔ جب پکے مکانات تاش کے پتوں کے گھروندوں کی طرح گرنے لگتے ہیں ۔ جب زمین کا اوپری حصہ دھنس جاتا ہے اور اندرونی حصہ اوپر آجاتا ہے ۔ جب آباد ترین شہر چند لمحوں میں وحشت ناک کھنڈر کی صورت اختیار کرلیتے ہیں ۔ جب انسان کی لاشیں اس طرح ڈھیر ہو جاتی ہیں جیسے مری ہوئی مچھلیاں زمین کے اوپر پڑی ہوں ــــــــ یہ زلزلہ کا وقت ہوتا ہے ۔ اس وقت انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ قدرت کے مقابلہ میں کس قدر بے بس ہے ۔ یہ زلزلے بالکل اچانک آتے ہیں ۔ در حقیقت زلزلہ کا المیہ اس امر میں پوشیدہ ہے کہ کوئی بھی شخص یہ پیشین گوئی نہیں چٹانی تہ ہم کو الگ کرتی ہے جو زمین کی پوری جسامت کے مقابلہ میں ایسی ہی ہے جیسے سیب کے اوپر اس کا باریک چھلکا۔ ایک جغرافیا داں کے الفاظ میں ، ہمارے آباد شہروں اور نیلے سمندروں کے نیچے ایک قدرتی جہنم دہک رہا ہے۔ کر سکتا کہ زلزلہ کب اور کہاں آئے گا ۔ یہ زلزلے گویا آئندہ آنے والے بڑے زلزلہ (قیامت) کی پیشگی اطلاع ہیں۔ یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ زمین و آسمان کا مالک کس طرح اس دنیا کو ایک روز توڑ ڈالے گا اور اس کے بعد ایک نیا عالم بنائے گا۔ موت کے خوف نے ان سے زندگی کی راحتیں چھین لیں ۲۸ جولائی ۱۹۷۶ء کو شمال مشرقی چین میں زلزلہ آیا۔ چین کا یہ سب سے بڑا صنعتی شہر تنگ شین جس کی آبادی دس لاکھ تھی، کھنڈر میں تبدیل ہو گیا ۔ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ اسکے جھٹکے جاپان اور کوریا تک محسوس کئے گئے، چین کی راجدھانی پیکنگ زلزلہ زدہ شہر سے تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ تاہم لوگوں کے خوف وہراس کا عالم یہ تھا کہ پیکنگ کی ۷۰ لاکھ آبادی نے ممکنہ موت کے ڈر سے اپنے مکانات چھوڑ دیئے اور کئی راتیں سڑکوں اور پارکوں میں گزاریں جبکہ ان کے سروں پر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page