Urdu book · زلزلۂ قیامت

کسی بھی حال میں انصاف کو نہ چھوڑیئے

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

پٹرول کی طاقت نے مسلمانوں کو نہ صرف اقتصادی اور سیاسی سہارا دیا ہے بلکہ وہ اعلان حق اور دعوت دین کے کام میں بھی مددگار ہو رہا ہے۔ دو بلین پٹرول ڈالر (۱۸۰۰ کروڑ روپے) کے خرچ سے ۱۹۷۶ میں لندن میں جو ورلڈ آف اسلام فیسٹیول (مہرجان العالمی الاسلامی) ہوا، اس کو دیکھ کر سیکڑوں یورپی باشندے مسلمان ہو گئے۔ ایک برطانوی اخبار نے اس مہرجان کی رپورٹ دیتے ہوئے اس کو یورپ کے اوپر اسلام کا حملہ قرار دیا تھا۔ (السٹرٹیڈ ویکلی ۱۸ جولائی ۱۹۷۶) : The Islamic invasion is upon us پٹرول کی اقتصادی قوت نے آج مسلم قوموں کو نئی اہمیت دے دی ہے۔ ساری دنیا میں عربی زبان کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں جگہ جگہ اسلامی مراکز کھل رہے ہیں۔ اسلامی لٹریچر کی اشاعت کا کام بہت بڑھ گیا ہے۔ دنیا بھر میں اسلامی شخصیتوں اور اسلامی اداروں کو پٹرول کے جادو نے نئی زندگی عطا کر دی ہے۔ بین اقوامی اسلامی اجتماعات اتنی زیادہ تعداد میں ہو رہے ہیں جن کا چند سال پہلے تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ افریقہ میں نہ صرف عوام میں اسلام پھیل رہا ہے بلکہ حالیہ برسوں میں دو عیسائی حکمراں اسلام قبول کر چکے ہیں ـ یہ اور اس طرح کے دوسرے اسلامی اہمیت کے واقعات جو آج ساری دنیا میں ہو رہے ہیں وہ تمام تر اس دولت کے کرشمے ہیں جو خداداد پٹرول کے ذریعہ اچانک خلیج فارس کے مسلم ملکوں کو حاصل ہو گئی ہے حتیٰ کہ حالیہ برسوں میں مسلم قوموں کو اپنے مغربی آقاؤں کے مقابلہ میں جو جرأت اختلاف پیدا ہوئی ہے، وہ بھی تمام تر پٹرول کی خداداد طاقت کا کرشمہ ہے، مثلاً ترکی ، سعودی عرب اور پاکستان کا امریکہ کے مقابلہ میں، اور مصر کا روس کے مقابلہ میں۔ مگر ان باتوں میں ہمارے لئے بہت زیادہ خوشی کا پہلو نہیں ہے کیوں کہ ”انسان“ کا کام ”پٹرول“ انجام دینے لگے تو یہ خدا کی طرف سے انسان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ جب خدا کی آواز بلند کرنے کے لئے انسانوں کی زبانیں بند ہو جاتی ہیں، اس وقت دابۃ الارض (۸۲) زمین سے نکل کر امر حق کا اعلان کرتا ہے۔ مگر جب دابۃ الارض کی زبان سے خدا اپنا اعلان کرانے لگے تو یہ خوشی کا نہیں غم کا وقت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کے بعد زمین و آسمان کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے۔ انسان سے زمین کا سر سبز کرہ چھین لیا جاتا ہے اور اس کو دھوئیں اور آگ کی دنیا کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے جہاں وہ ابدی طور پر ”روتا اور دانت پیستا“ رہے۔ مسیحؑ سے یروشلم کے یہودی علماء نے کہا کہ اپنے شاگردوں کو منع کر دو کہ وہ ہمارے اوپر تبلیغ نہ کیا کریں۔ مسیحؑ نے جواب دیا: اقول لکم انه ان سکت هولاء فالحجارة تصرخ میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر یہ چپ ہو جائیں تو پتھر چلا اٹھیں گے (لوقا ۱۹: ۴۰) مطلب یہ ہے کہ خدا کے پیغام کو بہر حال بلند ہونا ہے۔ اگر وہ انسانوں کی زبان سے بلند نہیں ہو گا تو درخت اور پتھر چلا کر اسے لوگوں کو سنائیں گے۔ مگر جب درخت اور پتھر چلانے لگیں تو یہ انسانوں کے لئے موت کا وقت ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس کے بعد عمل کی مہلت ختم ہو جاتی ہے اس کے بعد دو ہی چیزیں باقی رہتی ہیں یا جنت یا جہنم۔ یہ امتحان کی کاپی چھین لینے کا وقت ہوتا ہے نہ کہ پرچہ حل کرنے کا۔

کے لیے بھی ایک چیلنج ہے کہ وہ اس صورت حال میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page