Urdu book · زلزلۂ قیامت

ساری پوتی نہیں دیکھی جائے گی

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

ساری پوتی نہیں دیکھی جائے گی ایک بزرگ راستہ چل رہے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے معتقدین کی ایک بڑی جماعت تھی۔ راستہ میں ایک فقیر نے روکا : " آپ نے بہت کچھ پڑھا اور جانا ہوگا۔ ایک بات میری بھی سن لیجئے ۔" اس نے کہا اور پھر ایک وقفہ کے بعد بولا : "سنئے ! وہاں کسی کی ساری پوتی نہیں دیکھیں گے۔ آدمی سچ سچ جہاں ہے، بس وہیں انگلی رکھ دی جائے گی؛ اتنا کہا اور خاموشی سے غائب ہوگیا۔ آدمی لوگوں کے درمیان اس سے جانا جاتا ہے کہ وہ مقرر ہے، مصنف ہے ، فلاں عہدے اس کے پاس ہیں۔ فلاں فلاں ملکوں کی اس نے سیاحت کی ہے ۔ اتنے آدمیوں کی جماعت اس کے ساتھ ہے۔ اس نے فلاں فلاں کارنامے انجام دیئے ہیں ۔ وغیرہ ۔ مگر اکثر یہ تمام چیزیں مصنوعی ہوتی ہیں ۔ انسان حقیقتہ کہیں اور ہوتا ہے، مگر دیکھنے میں کہیں اور نظر آتا ہے۔ اس کی تمام سرگرمیاں اپنی ذات کے گرد گھومتی ہیں ۔ اگرچہ بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ خدا اور اس کے دین کے لئے سرگرم عمل ہے ۔ کوئی انسان کہاں ہے ، یہ ہم نہیں جان سکتے ۔ مگر خدا اس کو اچھی طرح جانتا ہے ۔ آخرت میں کسی آدمی کی زندگی کے ٹھیک اسی مقام پر وہ انگلی رکھ دے گا جہاں وہ حقیقتہ جی رہا تھا۔ ایک وزیرِ اعظم جب اقتدار کی کرسی پر ہو تو ملک کی تمام رونقیں اس کے جلو میں چلتی ہیں۔ ہر طرف بس اسی کے شان دار کارناموں کی دھوم ہوتی ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا اس سے بڑھ کر انسانیت کا پیکر اور کوئی نہیں۔ مگر جب عوام کی عدالت اس کو بے نقاب کرتی ہے اور اس کو مصنوعی رونقوں کے تخت سے اتار کر وہاں رکھ دیتی ہے جہاں وہ فی الواقع تھا تو اچانک دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ اس کی بظاہر روشن زندگی کمل طور پر ایک تاریک زندگی تھی۔ وہ تمام تر اپنی ذات کی سطح پر جی رہا تھا۔ اگرچہ اس کے تحت ابلاغ کے تمام محکمے رات دن اس پروپیگنڈے میں مصروف تھے کہ وہ خدمت قوم اور تعمیر ملک کی سطح پر زندگی گزار رہا ہے۔ اسی مثال سے آخرت کے معاملہ کو بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page