کوڑا بھی بیکار نہیں
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۵۴
کوڑا بھی بیکار نہیں
ہر شہر میں صبح کو یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ میونسپلٹی کے ملازمین شہر کا تمام کوڑا اکٹھا کرتے ہیں اور گاڑیوں میں لاد کر اس کو باہر پھینک آتے ہیں۔ مگر یہ گندگی، صنعتی ٹوٹ پھوٹ، استعمال شدہ چیزیں، کاغذ، دھات اور پلاسٹک وغیرہ کے ٹکڑے سے ہماری زبان میں صرف کوڑا نہیں عام تصور کے مطابق ان کا واحد مصرف یہ ہے کہ انھیں جمع کر کے کسی گڑھے میں دفن کر دیا جائے۔
مگر مغربی دانشوروں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اس کوڑے کرکٹ کے اندر ایک عظیم طاقت چھپی ہوئی ہے اور وہ ان کی وہ حرارت ہے جس کی مجموعی مقدار ۵۰۷۴ سے ۷۳۰، ۸ برٹش تھرمل یونٹ ( B. T. U) فی گھنٹہ ہوتی ہے۔
اس دریافت نے یکایک کوڑے کرکٹ کو وہ مقام دے دیا جو کوئلہ اور پیٹرول کا ہوتا ہے۔ اس کے ہوئے ہے۔
کوڑا عام حالات میں صرف کوڑا ہے، مگر جب اس پر دانش مندی اور محنت کا اضافہ کیا جائے تو وہ بجلی کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس سے زیادہ طاقت ور کوئی چیز اس دنیا میں نہیں۔
معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں تینے بے پناہ امکانات رکھے ہیں کہ یہاں کوڑا بھی بیکار نہیں ہو سکتا، اسی طرح اگر کوئی قوم اتنی پستی میں پہنچادی جائے کہ لوگ اسے "انسانی کوڑا" سمجھنے لگیں، جب بھی خدا کی اس کائنات میں اس کے لئے مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔ وہ کوڑے خانے سے نکل کر انتہائی بلند مقام پر پہنچ سکتی ہے، بشرطیکہ وہ اپنے اندرونی امکانات کو بروئے کار لانے کے لئے محنت اور دانش مندی کا وہ عمل کرے جو گاریج بوائلر کی مثال میں نظر آتا ہے****** جدید یورپ میں ایسی ہی صنعت رچاوٹیں کی جاتی ہیں تو گاربج بوائلر GARBAGE BOILER کہتے ہیں۔ یورپ کے بہت سے شہروں میں اس اسکیم کے تحت خاص طرح کے بوائلر اور بھٹیاں تیار کی گئی ہیں شہر کا تمام گھریلو اور صنعتی کوڑا حتی کہ ٹوٹے ہوئے فرنیچر اور سائیکل تک وہاں لا کر ڈال دیئے جاتے ہیں۔ یہ گندگی اور دوسری لبی چیزیں بوائلر کی بھٹی میں جلائی جاتی ہیں اس سے حرارت پیدا ہوتی ہے جو اسٹیم بناتی ہے اور اسٹیم سے الیکٹرک جنریٹر کو حرکت دے کر بجلی پیدا کی جاتی ہے اس طرح کوڑے کرکٹ کو بالآخر بجلی میں تبدیل کر لیا جاتا ہے جو دورِ جدید کی سب سے بڑی قوت ہے جو موجودہ زمانے میں پورے انسانی تمدن کو متحرک کئے قرآن کے بارے میں " میں نے قرآن کا مطالعہ کیا مجھے اس کی سب سے بڑی خوبی یہ نظر آئی کہ یہ فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہے۔ (گاندھی)
" وہ وقت دور نہیں جب کہ قرآن
اپنی ناقابلِ انکار صداقت اور روحانیت کے ذریعہ سب مذاہب کو اپنے اندر جذب کرلے گا۔ (لیگوڈ) " میں نے توریت، انجیل اور وید سب پڑھے مگر قرآن ہی ایک ایسی کتاب ہے جو سب سے زیادہ اعلیٰ وارفع ثابت ہوئی۔ (گرو نانک)
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues