طاقت کا خزانہ آپکے اندر ہے
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۵۶
ہمت نہیں ہارتی اور ہر بار دوبارہ اسی کام میں مشغول ہو جاتی جس میں وہ اس سے پہلے ناکام ہو چکی تھی ۔ رابرٹ بروس اس کے ناکام تجربات کو گنتا رہا۔ یہاں تک کہ جب وہ نویں بار زمین پر گری تو اس کو ہنسی آ گئی۔ اب یہ کیڑا مزید کوشش کی حماقت نہیں کرے گا اس نے کہا۔ مگر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ مکڑی نے ایک لمحہ ٹھہرے بغیر دسویں بار پھر اپنی جدوجہد شروع کر دی ۔
اس بار رابرٹ بروس کے سامنے دوسرا منظر تھا اس نے دیکھا کہ مکڑی منزل سے بہت قریب پہنچ گئی ہے وہ دھیرے دھیرے چڑھتی رہی یہاں تک کہ جب فاصلہ بہت قریب آگیا تو اس نے آخری چھلانگ لگائی آب وہ اپنے جالدار مکان کے اندر تھی۔
”خوب“ رابرٹ بروس چلایا ”وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو ہمت نہ ہاریں اور مسلسل اپنی جدوجہد جاری رکھیں “ وہ ایک لمحہ کے لئے رکا اور پھر بولا ” ایک معمولی کیڑے نے مسلسل کوشش سے اپنی بازی جیت لی۔ پھر میں کیوں ایسا نہیں کر سکتا۔ “ رابرٹ بروس غار سے نکل کر باہر آیا۔ اس نے آخری فیصلہ کن مقابلہ کے لیے تیاری شروع کر دی۔ وہ نئے عزم کے ساتھ شاہ انگلینڈ سے لڑا اور اس بار اس نے فتح حاصل کر لی۔
حقیقت یہ ہے کہ ” میں ایسا نہیں کر سکتا “ محض ایک بزدلانہ فقرہ ہے ہر شخص ہر کام کر سکتا ہے اور اگر دوبارہ نہیں تو فتح میں تبدیل ہو سکتا ہے بشرطیکہ مسلسل جدوجہد سیب کا سبق ایک ٹن سیب سے کتنا عرق نکالا جا سکتا ہے ۔ کوئی بھی پھلوں کا ماہر آپ کو بتائے گا کہ 40 سے ۶۵ کلوگرام تک ۔ مگر سیب میں حقیقتاً اس سے بہت زیادہ عرق ہوتا ہے ۔ محققین نے دریافت کیا ہے کہ موجودہ ذرائع کے تحت جب ہم سیب کو مکمل طور پر نچوڑ چکے ہوتے ہیں ، اس کے بعد بھی اس کے اندر ایک ٹن میں ۱۰۰ سے ۱۲۰ کلوگرام تک عرق باقی رہتا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے کولھو اچھے نہیں ہیں ۔ نہیں۔ اگر ہم سب سے طاقتور برقی کولھو استعمال کریں جب بھی عرق کی مقدار میں بس برائے نام ہی فرق آئے گا ۔ سیب کے اندر بچا ہوا عرق پھر بھی نہیں حاصل نہ ہو سکے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیب کے خلیوں کا چھلکا بے انتہا دباؤ کے تحت بھی ویسے کا ویسا ہی رہتا ہے ۔ اور کولھو میں پس جانے کے باوجود اس کا عرق خلیوں کے اندر محفوظ رہتا ہے موجودہ حالت میں دباؤ اور طاقت کا اضافہ اس مسئلے کو حل نہیں کرتا ۔
یہ سیب کا قصہ ہے مگر اسی کے اندر آپ قوموں کی تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں ۔ ایک قوم وہ ہوتی ہے کہ اگر وہ کسی دباؤ کی زد میں آجائے تو آخری حد تک نچوڑ کر رہ جاتی ہے ۔ مگر زندہ قوموں کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ مگر وہ ظلم و ستم کے کولھو میں پل دی جائیں جب بھی ۔ سیب کی طرح ، ان کے اندر زندگی کی رمق باقی رہتی ہے اور موقع پاتے ہی وہ دوبارہ رڈ برداروں میں یوں بدیاں اور آہیں بھر کر کرنے کا حوصلہ پیدا ہو جائے ۔ * رسی باس رہاہے اور رسی پرپات پہاڑاور اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues