عَلَيْهِمْ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۲۰
کیا جائے اور فقہی اور معقولاتی اور متصوفانہ انداز کو ہمیشہ کے لئے ایک تاریخی چیز بنا دیا جائے۔ خدائی دین کو جب تک انسانی آمیزشوں سے پاک نہ کیا جائے ، اسلام کا احیاء نہیں ہو سکتا۔
اسلام کی تدوین کا کام ایک دو شخص کے کرنے کا نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی مجلس ہی کے ذریعہ انجام پا سکتا ہے جس میں معقول تعداد میں ایسے اہل علم جمع کئے جائیں جو نہ صرف قرآن وحدیث کو بخوبی جانتے ہوں بلکہ خالص علمی انداز سے مسائل کی تحقیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس طرح کی ایک ٹیم ایک ادارہ میں اکٹھا ہو کر مسلسل کام کرے اور اُس کو اس مقصد کی تکمیل کے لئے ہر قسم کے وسائل با فراط حاصل ہوں تو انشاء اللہ دس برس میں وہ ذخیرہ کتب تیار ہو سکتا ہے جو اسلام کو از سر نو زندہ کرنے کی ایک حقیقی جد و جہد کے لئے فکری بنیاد کا کام دے۔ یہ امت اگر چاہتی ہے کہ قیامت میں اس کو امت محمدی کی حیثیت سے شمار کیا جائے تو اس کا پہلا لازمی فریضہ ہے کہ "ہدی محمدی" کو انسانی آمیزش سے پاک کر کے اس کی خالص شکل میں لوگوں کے سامنے رکھ دے۔ موجودہ حالت میں اگر ارادہ نہیں تو عملاً وہ کتمان حق کی مجرم بن رہی ہے اور اس بات کو اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ کسی حامل کتاب گروہ کے لئے کتمان حق کے ساتھ کوئی بھی عمل اللہ تعالی کے یہاں مقبول نہیں ہوتا۔
حکمت کا تقاضا ہے کہ اس کام کو اجتماعی اہتمام کے ساتھ انجام دیا جائے۔ وہ علوم جو اجتماعی اہمیت کے حامل ہوں ان کی تدوین اجتماعی سطح پر ہی ہونا چاہئے تاکہ پوری ملت کے اندر ان کو مستند مقام حاصل ہو اور سارے لوگ ان کو قبول کر سکیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ کے زمانہ میں جب ریاست کے تحت قرآن کی جمع و ترتیب کا کام انجام دیا گیا اور اس کے بعد جو نسخے بچے ان کو جلا دیا گیا ، تو اس کے اندر یہی حکمت تھی۔ جمع قرآن کا کام اگر انفرادی شخصیتوں کے ذریعہ انجام پاتا تو سخت اختلاف ہو جاتا اور پھر قیامت تک ختم نہ ہوتا۔
حدیث کی جمع و تدوین کے لئے بھی حضرت عمر بن عبدالعزیز نے غالباً یہی منصوبہ بنایا تھا۔ انھوں نے مدینہ کے گورنر محمد بن عمر بن حزم اور دوسرے گورنروں کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث اور سنت ملے ان کو جمع کر کے ضبط تحریر میں لائیں۔ مگر ان کی جلد موت کی وجہ سے خلافت کی ماتحتی میں یہ کام انجام نہ پا سکا۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ لوگ "ثواب" کے جذبہ کے تحت انفرادی طور پر اس کو کرنے میں لگ گئے۔ بہتر طریقہ یہ تھا کہ محدثین ، خلفاء کے ذریعہ ، جوان کے بے حد عقیدت مند تھے ، سرکاری انتظام کے تحت ایک ادارہ قائم کراتے جس میں محدثین کی منتخب جماعت اکٹھا ہو کر حدیث کی جمع و ترتیب کے سلسلے میں وہی کرتی جو قرآن کے سلسلے میں زید بن ثابت انصاری اور ان کے ساتھیوں نے کیا تھا۔ اگر آغاز ہی میں معتبر احادیث کا ایک مجموعہ تیار کر کے باقی تمام احادیث کو نذر آتش کر دیا جاتا ، تو امت بے شمار فتنوں سے بچ جاتی۔ فقہ کی تدوین کے سلسلے میں بھی صحیح طریقہ اسی اسوہ صدیقی پر عمل کرنا تھا ، بجائے اس کے کہ مختلف فقہاء الگ الگ اپنا مدرسہ فکر لے کر بیٹھ جائیں اور ایک خداوندی مذہب کو دس الگ الگ مذاہب میں تبدیل کر ڈالیں۔ اسی طرح علوم اسلامی کی تدوین کا جو کام ہمارے ذمہ ہے اس کو انجام دینے کا بھی صحیح طریقہ یہ ہے کہ اہل علم کی ایک ٹیم مقرر کی جائے اور وہ اپنی اجتماعی جد و جہد سے کتابوں کا ایک سیٹ مرتب کرے۔ انفرادی طور پر اگر یہ کام کیا گیا تو اصل مدعا حاصل نہ ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues