الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۶۵
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۶۵
* سرپرست * مولاناوحیدالدین خاں "ہماری قوم جاہل ہے، آپ اس کی جہالت دور کرنے کے لیے کیوں نہیں اٹھتے؟ " " آپ نے خود کہاں تک تعلیم حاصل کی ہے؟ "
" میں تو بدقسمتی سے کوئی تعلیم حاصل نہ کر سکا،"
" پھر آپ یہ کیجیے کہ فوراً کسی تعلیمی ادارہ میں داخلہ لے لیجیے۔ اگر آپ نے پڑھ لیا تو قوم کا کم سے کم ایک جاہل کم ہو جائے گا"
دو شخصوں کی یہ گفتگو بتاتی ہے کہ موجودہ حالات میں ہمارے کرنے کا کام کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ دوسروں کو تلقین کرنے کے بجائے ہر شخص اپنے کام میں لگ جائے۔ زندہ قوم کی علامت یہ ہے کہ اس کا ہر شخص "میں کیا کروں" کے سوال پر سوچتا ہے۔ اس کے برعکس جب قوم کے افراد "دوسرے کیا کریں" کے سوال پر بحث کرنے لگیں تو سمجھنا چاہیے کہ قوم مرچکی ہے۔ اس قسم کی حرکت موت کی حرکت ہے نہ کہ زندگی کی حرکت۔
جلد! شمارہ ٤ زر تعاون سالانه ۳۷۲ روپے ۔ بیرون ہند سے ۲۰ ڈالر۔ فی پرچہ دردروپیہ | فروری ۱۹۸۷ء
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues