ISLAMIC CENTRE
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۶۰
اسلام کا مطلب ہے اپنے آپ کو خدا کے آگے سپر (SURRENDER)
کر دینا۔ مسلمان وہ ہے جو اس بات پر یقین رکھتا ہو کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے۔ وہ مرنے کے بعد ہر ایک سے اس کے کارنامہ زندگی کا حساب لے گا۔ اس کے بعد اپنے وفادار بندوں کے لئے دائمی جنت کا فیصلہ کرے گا، اور غیر و فا دار بندوں کو دائمی جہنم میں ڈال دے گا۔ اس احساس کے تحت جو زندگی بنتی ہے، اس کو ایک لفظ میں آخرت رخی زندگی (AKHIRAT ORIENTED LIFE) کہہ سکتے ہیں۔ یہ احساس جب کسی دل میں پیدا ہو جائے تو اس کی پوری زندگی بدل جاتی ہے۔ وہ ہر وقت خدا سے ڈرنے لگتا ہے۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ خدا اس کو کھلے اور چھپے ہر حال میں دیکھ رہا ہے، بندوں سے معاملہ کرتے ہوئے وہ ہمیشہ انصاف اور خیر خواہی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ ہر انسان کے پیچھے اس کا خدا کھڑا ہوا ہے۔ وہ کبھی اس بات کو نہیں بھولتا کہ بالا تر وہی چیز صحیح قرار پائے گی جس کو خدا صحیح کہے اور وہ سب کچھ غلط ٹھہرے گا جس کو خدا غلط ٹھہرائے۔ اسی کے ساتھ مسلمان کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ زندگی کی اس حقیقت کو دوسری تمام قوموں تک پہنچائے۔ اس سنگین واقعہ سے لوگوں کو باخبر کرنے کے لئے پہلے انبیاء آتے تھے۔ ختم نبوت کے بعد یہ ذمہ داری نبی آخر الزماں کی امت پر ڈال دی گئی ہے، مسلمان پر جس طرح خود عمل کرنے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح دوسروں تک پہنچانے کی ذمہ داری ہے۔ ان میں سے کوئی ایک کام، دوسرے کام کے لئے خدا کے یہاں عذر نہیں بن سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues