Al-Risala · February 1977 · page 12

لطفه

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۱۲

ابو لہب كويہ بات غیر اہم نظر آئی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نبوت ملی اور خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ لوگوں کے درمیان حقیقت کا اعلان کرو تو آپ صفا کی پہاڑی پر چڑھے ، اس زمانے میں کسی بڑے خطرے کے اعلان کے لئےمکہ میں اسی بلند مقام کو استعمال کیا جاتا تھا۔ آپ نے پکار کر لوگوں کو جمع کیا۔ جب لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے ایک مختصر تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا :

" لوگو آگاہ ہو جاؤ ، جس طرح تم سوتے ہو ، اسی طرح تم مرو گے اور جس طرح تم جاگتے ہو اسی طرح دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے ۔ اس کے بعد یا ہمیشہ کے لئے جنت ہے یا ہمیشہ کے لئے جہنم"

یہ آخرت کی حقیقت کا اعلان تھا جو دنیا پرست لوگوں کو سنایا جا رہا تھا۔ مگر آپ کے چچا ابولہب کی دنیوی فکر کے لئے یہ پیغام آخرت اتنا غیر مانوس ثابت ہوا کہ وہ فوراً مجلس سے اٹھ گیا اور چلا کر کہا : «تَبًّا لَكَ سائر اليوم المهذا اجمعتنا تمھارا براسا ہو۔ کیا تم نے یہی بات سنانے کے لئے ہم کو جمع کیا تھا۔

دین کو جب دنیوی سانچے میں ڈھال کر پیش کیا جائے تو وہ بہت جلد لوگوں میں مقبول ہو جاتا ہے۔

دین آخرت طلبی کا نام ھے ۔

مہاتما گاندھی بھی سوشلزم کو مانتے تھے، اور کمیونسٹ بھی۔ دونوں میں فرق یہ تھا کہ گاندھی جی اختیاری سوشلزم کے قائل تھے اور کمیونسٹ جبری سوشلزم کے۔ کمیونسٹوں کا سوشلزم عوام میں پھیل گیا۔ جب کہ گاندھی جی کے سوشلزم کو صرف چند ہی لوگ قبول کر سکے۔ وجہ بالکل ساڑ ہے؛ کمیونسٹوں کا نظریہ عوام کی فکری سطح سے قریب تھا۔ اس کے برعکس گاندھی جی کا نظریہ، نسبتاً زیادہ بہتر ہونے کے باوجود، عوام کے لئے ناقابل فہم تھا۔ اس کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے تھے جو سماجی مسائل پر زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچتے ہوں۔

یہی صورت حال مذہب کے ساتھ بھی پیش آتی ہے۔ کوئی مذہبی تحریک عوام میں مقبول ہو رہی ہو تو اس کا لازمی مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ صداقت پر مبنی ہے۔ بالکل ممکن

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page