Al-Risala · March 1978 · page 23

آدمی بدل جاتا ہے

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۲۳

الہ آباد ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس جے ۔ ایم ۔ ایل ۔ سنہانے ۱۲ جون ۱۹۷۵ء کو اپنا یہ تاریخی فیصلہ دیا جس میں مسز اندرا گاندھی کے الیکشن (۱۹۷۱ء) کو ناجائز قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ۲۶ جون ۱۹۷۵ء کو ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں آیا جس نے پورے ملک کو نئے راستہ پر ڈال دیا۔ اس وقت سے لے کر فخر الدین علی احمد ہو جاتی ۔ مگر وہ اس خدائی پیغام کے ناشرین جاتے جس کو پچھلی کئی صدیوں سے سارے مسلمان مل کر بھی انجام نہیں دے سکے ہیں اور جس کے ادا کرنے والے کے لئے بلاشبہ خدا کے یہاں سب سے بڑی سرفرازی ہے۔ ***** نام کیا حقیقت کے انتقال تک جو ہنگامہ خیز واقعات ہوئے، ان سب میں مرحوم کا نام شامل تھا۔ ایک صاحب اقتدار شخصیت محض اپنی ذات کو بچانے کے لئے انتہائی بے دردی کے ساتھ پورے ملک کا ڈھانچہ بدلتی رہی اور راشٹرپتی بھون کا صدر نشین اس کے ہر منصوبے پر قانونی جواز کی مہر لگاتا رہا۔

جیسا کہ کہا جاتا ہے، آخری دنوں میں مرحوم فخر الدین علی احمد کا ضمیر چیخ اٹھا تھا۔ انھوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اس عہدہ سے استعفا دے دیں گے۔ اگر انھوں نے ایسا کیا ہوتا اور پھر دربار فرعون کے مومن کی طرح کھڑے ہو کر یہ کہتے کہ " اقتدار کے جوش میں یہ مت بھول جاؤ کہ خدا کی پکڑ تمھارا انتظار کر رہی ہے۔ لوگو! تمھیں مرنا ہے اور مرنے کے بعد خدا کے یہاں حساب دینے کے لئے حاضر ہونا ہے" اگر وہ ایسا کرتے تو اچانک وہ اس مقام پر کھڑے ہو جاتے جو شہدا اور انبیا ر کا مقام ہے۔ ہندوستانی تاریخ کا کلامیکس اور ان کی مخصوص پوزیشن ان کی تقریر آخرت کو نہ صرف سایۂ فلک بلکہ ساری دنیا میں پھیلا دیتی۔ کوئی کان نہ ہوتا جس نے اس کو سنا نہ ہو، کوئی نگاہ نہ ہوتی جس نے اس کو پڑھا نہ ہو۔ صدر جمہوریہ کے عہدہ سے استعفا دینے کے نتیجہ میں ممکن ہے کہ چند روز کے لئے ان کی دنیا برباد ایک ایم۔ایس۔ سی سے مذہب کے بارے میں بات ہورہی تھی۔ دورانِ گفتگو انہوں نے کہا: HUMAN QUALITIES ARE MORE IMPOR- TANT THAN THE RELIGIOUS CUSTOMS نسانی صفات زیادہ ضروری ہیں بہ نسبت مذہبی رسوم۔ یہ جملہ اس نفسیات کو بہت خوبی کے ساتھ بتا رہا ہے جس کی وجہ سے مذہب آج کل کے پڑھے لکھے لوگوں کی نظر میں قیر اہیم بن گیا ہے۔ یہ لوگ مذہب کو ایسے رسوم و اعمال کے مجموعہ کی حیثیت سے دیکھتے ہیں جس کا انسان کی اصل زندگی سے کوئی تعلق نہ ہو۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ حقیقی زندگی میں کامیاب ہونے کے لئے جن اوصاف کی ضرورت ہے، وہ مذہب سے حاصل نہیں ہوتیں، تو ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے رسیمیاتی خیمہ کا بوجھ وہ کیوں اٹھائے پھریں۔

مذہب کا یہ تصور اصل مذہب کے مطالعہ سے نہیں بنا ہے بلکہ اہل مذاہب کو دیکھ کر بنا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ موجودہ زمانہ میں مذہب والوں نے یہ ہی نمونہ پیش کیا ہے، گویا مذہب کچھ ناقابل فہم قسم کے رسمی اعمال کی بجا آوری کا نام ہے۔ حالانکہ مذہب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک زندہ قوت کا نام ہے جو انسان کی پوری زندگی میں ہلچل پیدا کر دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues

Printed page