reign of his father
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۴۲
چو شاہزادہ اور رنگ زیب دیں پرور گرفت جائے پدر را بہ قوت شمشیر برہان پور میں کچھ باذوق لوگوں نے حلقہ نیرنگ خیال کے نام سے ایک تنظیم قائم کی ہے۔ اس تنظیم کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی خاص نظریہ سے بندھی ہوئی نہیں ہے۔ وہ فکری توسع کی قائل ہے۔ لوگوں میں آزادانہ طور فکر کا مزاج ابھارنا چاہتی ہے۔ راقم الحروف کے پاس تنظیم کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہوا جس میں لکھا گیا تھا : " تقریبا تیرہ سو برس پہلے ایک عظیم سانحہ کربلا میں گزرا تب سے آج تک علما کرام نے اس پر بہت کچھ لکھا اور اپنی تقریروں میں بہت کچھ کہا اور ہر سال کسی نہ کسی صورت میں اس کی یادگار منائی جاتی رہی ہے۔ اندر رہے گی ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعہ یا حادثہ ایک رد عمل کا محتاج تھا جو ہمارے سامنے ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ کوئی آج کا محقق " روایتی نقطۂ نظر سے ہٹ کر " اس موضوع " شہادت عظمی اور اس کا رد عمل "
پر اپنی محققانہ تقریر میں اس انداز سے روشنی ڈالے کہ اسے ہر قوم اور ہر مذہب خیال کے لوگ اگر نہ مانیں تو کم از کم سوچنے کے لئے ایک نئی راہ نکل آئے۔
اس سلسلہ میں جب غور کیا گیا اور ایک قابل، عالم، مدیر اور محقق شخصیت کی تلاش ہوئی تو احباب کی غالب اکثریت نے آپ کی شخصیت کی طرف رہنمائی کی۔ نتیجہ یہ ہے کہ یہ مکتوب آنجناب کی خدمت میں پیش ہے۔ اس توقع کے ساتھ کہ آپ اسے شرف قبولیت بخشیں گے اور ہمیں پہلی فرصت میں جوابی ڈاک اپنے مثبت جواب سے ممنون فرمائیں گے ۔ "
عام حالات میں شاید مجھ کو اس موضوع سے دلچسپی نہ ہوتی ۔ مگر حلقہ نیرنگ خیال کے دعوت نامہ کی اس بات نے مجھے متاثر کیا کہ وہ روایتی نقطۂ نظر سے ہٹ کر " اس کے بارے میں کچھ سننا چاہتے ہیں۔ میں نے دعوت قبول کر لی۔ اور ہر جنوری کی شام کو شہادت حسین کے موضوع پر میری تقریر ہوئی۔ بندھے ہوئے پنڈال میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شریک تھے۔ اجتماع کے اگلے دن شہر کی ایک ممتاز شخصیت ڈاکٹر جی۔ آر۔ گیتا میری قیام گاہ پر تشریف لائے اور کہا " آپ نے جو باتیں کہیں، مجھ کو بہت ٹھیک لگیں۔ یہی بات اگر سب مولوی کہنے لگیں تو مسلمان ترقی کر جائیں ۔ " در جنوری کے اجتماع کے علاوہ دو نشستیں اور ہوئیں۔ ایک رؤسا شہر کی جس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شریک تھے۔ دوسری مقامی جماعت اسلامی کی طرف سے اس کے دفتر میں۔ قیام کے دوران میں غیر رسمی طور پر کثرت سے لوگوں سے گفتگوئیں ہوتی رہیں۔
قدیم زمانہ میں برہان پور پارچہ بافی کا اتنا بڑا مرکز تھا کہ اس کے کپڑے بیرونی ممالک کو برآمد ہوتے تھے۔ ہرماس مو ٹویر نیر نے اپنی دوسری چار کی یاترا کے ورنن میں لکھا ہے ۔ " . It has a large castle still standing in the middle of the town and it is there that the Governor resides. The Government of this province is so important that it is conferred only upon a son or an uncle of the king, and Aurangzeb, who now reigns, was for a long time Governor of Burhanpur during the ( 1657 A. D. ) "
reign of his father
‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues