نقل مکانی
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۴۱
یونیورسٹی ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ایک نیا جینیٹک مادہ دریافت کریں جو ڈی این اے سے بالکل مختلف ہو۔ ڈی این اے کا دہرا مرغولہ نما ڈھانچہ کیمبرج میں ۱۹۵۳ میں فرانسس کریک اور جیمس واٹسن نے دریافت کیا تھا) مجھے یقین نہیں کہ ڈی این اے ابتدائی زمین پر بن سکتا تھا ضروری ہے کہ زندگی کسی اور چیز سے شروع ہوئی ہو اور ڈی این اے کا ارتقاءء بعد کو ہوا ہو۔ 9| ۴۔ جین کس طرح متحرک اور غیر متحرک ہوتے ہیں 11| سرجان کینڈریو : چیئر مین یورپین مانی کیولر سیالوجی آرگنائزیشن، ہائڈلبرگ : جین کس طرح بیکٹیریا میں متحرک اور غیر متحرک ہوتے ہیں، ان کی بابت ہم کسی قدر جانتے ہیں۔ مگر اعلیٰ حیوانات میں یہ واقعہ کیونکر ہوتا ہے، اس کی بابت ہم کچھ بھی نہیں جانتے۔ (جین کے متحرک اور غیر متحرک ہونے ہی کی وجہ سے ایسا ہے کہ ایک جسم کے سل ، جو سب کے سب ایک قسم کے جین پر مشتمل ہوتے ہیں، وہ مختلف قسم کے عمل کر پاتے ہیں اور نسوں، جلد، وغیرہ کے اجزائے ترکیبی بن جاتے ہیں)
21| ۵۔ ہمارے اندر محفوظ نظام کیوں 23| جسم کا مدافتی نظام ہم کو چھوت سے بچاتا ہے۔ یہی ہمارے اندر الرجّی کا سبب ہے، اور اعضاء کی پیوندکاری کو اس قدر مشکل بنا دیتا ہے۔ مگر ایڈنبرا یونیورسٹی کے ڈاکٹر میکلم کے نزدیک "سب سے زیادہ دل چسپ سوال یہ نہیں ہے کہ یہ مدافتی نظام کیسے کام کرتا ہے، بلکہ یہ کہ خود اس کا وجود ہی کیوں ہے۔ بے ریڑھ کے جانور اس کے بغیر بھی اچھی طرح گزر کر لیتے ہیں۔ مگر ریڑھ دار حیوانات میں یہ نظام نا قابل یقین حد تک پیچیدگی کے ساتھ شامل ہے۔ پچھلے دس سالوں سے اس خیال کو مقبولیت حاصل ہورہی ہے کہ اس نظام کی ضرورت اس لئے تھی کہ خلیہ کی سطح میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں جو سرطان کا سبب بن سکتی ہیں، ان کا پتہ لگایا جا سکے ، مگر بہت سی حالیہ دریافتیں اس کی تائید کرتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔ ۶ ۔ ارتقا کی پیمائش ہم کیسے کریں جان مینڈا سمتھ، پروفیسر حیاتیات سسیکس یونیورسٹی کا خیال ہے کہ ارتقا کا نظریہ ایک نا قابل حل اندرونی مسئلہ سے دوچار ہے۔ "نظریہ ارتقا کے تین حقیقی اجزاء ہیں :
تغیر (جین میں تبدیلی کا واقع ہونا)
انتخاب (فرق کا باقی رہنا یا مختلف اقسام کی زرخیزی)
نقل مکانی
یہ نظریہ ہمیں بتاتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک ، اکثر حالات میں ناقابلِ پیمائش حد تک خلیی سطح پر ، ارتقا کے عمل پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ اس طرح ہم تین طریقوں سے واقف ہیں جن کے متعلق ہمارا یقین ہے کہ وہ ارتقاء کے عمل کا تعین کرتے ہیں۔ پھر ہمارے پاس ایک ریاضیاتی نظریہ ہے جو ہم کو بتاتا ہے کہ یہ تینوں طریقے ایسی سطحوں پر اپنا اثر ڈالتے ہیں جن کی بالواسطہ پیمائش کی ہم امید نہیں رکھتے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہمارے پاس برقی مقناطیسیت کا ایک نظریہ تو ہو مگر ہمارے پاس نہ تو برقی لہروں کو ناپنے کا کوئی ذریعہ ہو اور نہ مقناطیسی زور کو ناپنے کا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues