Al-Risala · May 1978 · page 15

خلیفہ ثانی کی نصیحت

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۱۵

اللھم انت عبدى دانار بش خدایا تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں لفظوں کے اعتبار سے دیکھئے تو یہ کفر کا کلمہ ہے، مگر الفاظ اللہ تعالیٰ کو اتنے پسند آگئے کہ اس کو خدا کے مقبول بندوں میں شامل کر دیا گیا۔ کیونکہ حدیث کے الفاظ میں " اللہ ہمارے ظاہر کو نہیں دیکھنا ، وہ ہمارے قلب اور ہمارے باطن کو دیکھتا ہے"

دعا اور ذکر دین کی سب سے اعلیٰ حقیقتیں ہیں، مگر اس کا مطلب نہیں کہ کچھ پر اسرار قسم کی عربی منتر ہیں۔ ان کو شکر خاص خاص وقت میں دہراد و اور محل کے دروازے کھل جائیں گے۔ دعا کی حقیقت بندے کا اپنے مالک کو پکارنا ہے۔ اسی طرح ذکر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا خوف اور محبت اس طرح دل پر چھا جائے کہ ہر وقت اس کی یاد آتی رہے ۔ دعا اور ذکر وہی افضل ہے جو دل کی گہرائیوں سے نکلے، خواہ وہ اپنی مادری زبان میں ہو۔ خواہ اونٹ والے کی طرح وہ بے ڈھنگے الفاظ میں کیوں نہ ادا ہوئی ہو۔

خلیفہ ثانی کی نصیحت

حضرت عمر کی خلافت کے زمانہ میں عراق پر شاہان کسریٰ کا قبضہ تھا۔ اس وقت جس بادشاہ کی حکومت تھی اس کا نام یزدگرد تھا۔

عراق کے ساتھ لڑائی کے زمانہ میں ایک بار خلیفہ ثانی نے ارادہ کیا کہ وہ خود محاذ جنگ پر جاکر اسلامی فوجوں کی کمان کریں، مدینہ میں مشورہ ہوا۔ اکثر مسلمانوں کی رائے ہوئی کہ آپ کو خود جانا چاہئے ۔ مگر خواص نے رائے دی کہ آپ دارالسلطنت میں ٹھہریں اور یہاں رہ کر لشکروں کی رسدانی کا انتظام کریں، یہی زیادہ بہتر ہے۔ دوسری رائے کے حق میں فیصلہ ہوا اور سعد بن ابی وقاص کو عراق روانہ کیا گیا جہاں اس وقت قادسیہ کے مقام پر جنگ ہورہی تھی۔ حضرت سعد روانہ ہونے لگے تو حضرت عمر نے ان کو وصیت فرمائی۔ اس وصیت کا خلاصہ یہ تھا :

" سعد ! ! تمہیں یہ بات دھوکے میں نہ ڈالے کہ تم رسول اللہ کے ماموں کہلاتے ہو اور آپ کے صحابی ہو۔ اللہ برائی کو برائی سے نہیں دھو تا بلکہ برائی کو بھلائی سے دھوتا ہے۔ اللہ اور بندوں کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں۔ اس کے یہاں صرف اس کی بندگی مقبول ہوتی ہے۔ اللہ کے یہاں شریف رذیل سب برابر ہیں۔ سب اس کے بندے ہیں اور وہ سب کا رب ہے اس کے انعامات بندگی سے حاصل ہوتے ہیں۔ ہر معاملہ میں اس چیز کو دیکھتا جو رسول اللہ کا طریقہ تھا ، وہی عمل کی چیز ہے۔ میری اس نصیحت کو یاد رکھنا تم ایک بڑے کام کے لئے بھیجے جا رہے ہو۔ اس سے چھٹکارا صرف حق کا تپانا سے ہو سکتا ہے۔

اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو خیر کا عادی بنانا۔ اللہ کے خوف کو اختیار کرنا۔ اور اللہ کا خوف دو باتوں میں جمع ہوتا ہے۔ اس کی اطاعت میں اور گناہ سے پر ہیز کرنے میں۔ اور اللہ کی اطاعت جس کو بھی نصیب ہوئی، دنیا سے بے رغبتی اور آخرت سے محبت کے ذریعہ نصیب ہوئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page