Al-Risala · September 1978 · page 6

قیامت کا زلزلہ بڑا ہول ناک ہے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۶

قیامت کا زلزلہ بڑا ہول ناک ہے

يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔ بے شک قیامت کا زلزلہ بڑی ہول ناک چیز ہے۔ جس روز تم اس کو دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے اس بچہ کو بھول جائے گی جس کو دودھ پلايا تھا اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا۔ لوگ تم کو نشہ کی سی حالت میں دکھائی دیں گے۔ حالاں کہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے۔ بلکہ اللہ کا عذاب بے حد سخت ہے۔ (حج ۱-۲)

ایک فرانسیسی مصنف نے ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے 25 واں گھنٹہ (25th HOUR) مصنف نے دنیا کی تمام تہذیبوں کا جائزہ لے کر دکھایا ہے کہ انسانیت اب اپنی بربادی کے آخری کنارے پر ہے۔ ہمارے 24 گھنٹے ختم ہو چکے ہیں :

یہی بات دنیا کے آخری انجام کے بارے میں بھی صحیح ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت بالکل اچانک آئے گی۔ گویا ہمارا ہر لمحہ آخری لمحہ ہے۔ ہر وقت یہ امکان ہے کہ انسانیت اپنی مہلت عمر پوری کر چکی ہو۔ انسان اپنے 24 گھنٹوں کو ختم کر کے 25 ویں فیصلہ کن گھنٹے میں داخل ہو جائے ۔ یہ دنیا امتحان گاہ ہے اور ہر آدمی امتحان میں کھڑا ہوا ہے۔ وہ کوشش کرے تو امتحان میں اعلیٰ امتیاز کے ساتھ اپنے کو کامیاب بنا سکتا ہے۔ اور اگر وہ غافل رہے تو دوسرے انجام کے لئے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے آپ ہر آدمی کی طرف دوڑا چلا آ رہا ہے خواہ وہ اس کو کتنا ہی زیادہ نا پسند کرتا ہو۔

زندگی صرف ایک بار ملتی ہے، کالج کے ایک استاد نے کہا "میں بی ایس سی کر کے ملازمت میں لگ گیا۔ ایم ایس سی نہیں کیا۔ اب کتنے اعلی مواقع میرے سامنے آتے ہیں۔ مگر میں ان سے صرف اس لئے محروم رہتا ہوں کہ میرے پاس ماسٹر ڈگری نہیں “ یہی انجام زیادہ بڑے پیمانہ پر آخرت میں ظاہر ہونے والا ہے۔ ہر آدمی کے سامنے عالی شان مواقع ہوں گے۔ مگر وہ ان سے محروم رہے گا۔ کیوں کہ ان کے لئے اس نے دنیا میں تیاری نہیں کی تھی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues

Printed page