اسلام وہی ہے جو زندگی میں بھونچال بن کر داخل ہو
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۰
دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے نہ کہ محض زبانی الفاظ سے حضرت مسیح نے اپنے ایک وعظ میں فرمایا: مانگو تو تم کو دیا جائے گا۔ ڈھونڈ و تو پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔ کیوں کہ جو کوئی مانگتا ہے اسے ملتا ہے۔ اور جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے، اور جو کھٹکھٹاتا ہے اس کے واسطے کھولا جائے گا۔ تم میں ایسا کون آدمی ہے کہ اگر اس کا بیٹا اس سے روٹی مانگے تو وہ اس کو پتھر دے۔ یا اگر مچھلی مانگے تو اس کو سانپ دے۔ پس جب کہ تم برے ہو کر اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا جانتے ہو تو تمہارا باپ جو آسمان پر ہے اپنے مانگنے والوں کو اچھی چیزیں کیوں نہ دے گا۔ (متی ۷: ۷۔ ۱۲) یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا سے مانگنے والا کبھی محروم نہیں ہوتا۔ مگر مانگنا صرف کچھ لفظوں کو دہرانے کا نام نہیں ہے۔ مانگنا وہی مانگنا ہے جس میں آدمی کی پوری ہستی شامل ہوگئی ہو۔ ایک شخص زبان سے کہہ رہا ہو "خدایا مجھے اپنا بنالے"، مگر عملاً وہ اپنی ذات کا بنا رہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے مانگا ہی نہیں۔ اس کو جو چیز ملی ہوئی ہے، وہی دراصل اس نے خدا سے مانگی تھی۔ خواہ زبان سے اس نے جو لفظ بھی ادا کئے ہوں۔ ایک بچہ اپنی ماں سے روٹی مانگے تو یہ ممکن نہیں کہ ماں اس کے ہاتھ میں انگارہ رکھ دے۔ خدا اپنے بندوں پر تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ خدا سے خشیت مانگیں اور وہ آپ کو قساوت دیدے۔ آپ خدا کی یاد مانگیں اور وہ آپ کو خدا فراموشی میں مبتلا کر دے۔ آپ اگرت کی تڑپ مانگیں اور وہ آپ کو دنیا کی محبت میں ڈال دے۔ آپ کیفیت سے بھری ہوئی دینداری مانگیں اور وہ آپ کو بے روح دین داری میں تیار رہنے دے آپ حق پرستی مانگیں اور وہ آپ کو شخصیت پرستی کی کوٹھری میں بند کر دے۔ آپ کی زندگی میں آپ کی مطلوب چیز کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے ابھی تک اس کو مانگا ہی نہیں ۔ آخر آپ کو دودھ خریدنا ہو اور آپ تھیلی لے کر بازار جائیں تو پیسے خرچ کرنے کے بعد بھی آپ خالی ہاتھ واپس آئیں گے۔ اسی طرح اگر آپ زبان سے دعا کے کلمات دہرارہے ہوں مگر آپ کی اصل ہستی کسی دوسری چیز کی طرف متوجہ ہو تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ نہ آپ نے مانگا تھا اور نہ آپ کو ملا۔ جو مانگے وہ کبھی پائے بغیر نہیں رہتا۔ یہ مالک کائنات کی غیرت کے خلاف ہے کہ وہ کسی بندے کو اس حال میں رہنے دے کہ قیامت میں جب خدا سے اس کا سامنا ہو تو وہ اپنے رب کو حسرت کی نظر سے دیکھے۔ وہ کہے کہ خدایا میں نے تجھ سے ایک چیز مانگی تھی تو نے مجھے نہ دی۔ بخدایہ نا ممکن ہے، یہ نا ممکن ہے۔ یہ نا ممکن ہے۔ کائنات کا مالک تو ہر صبح و شام اپنے تمام خزانوں کے ساتھ آپ کے قریب آکر آواز دیتا ہے ۔ " کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے دوں، مگر جنہیں لینا ہے وہ اندھے بہرے بنے ہوئے ہوں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues