اسلام وہی ہے جو زندگی میں بھونچال بن کر داخل ہو
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۲
مارشل اسٹالن (۱۹۵۳-۱۸۷۹) تاریخ کے پہلے ملحدانہ نظام کے سربراہ تھے۔ ان کو ۳۰ سال تک انتہائی مطلق العنانی کے ساتھ حکومت کرنے کا موقع ملا۔ مگر ان کی موت اتنے بھیانک حالات میں ہوئی کہ ان کی اکلوتی لڑکی سویتلانا نے الحاد کو چھوڑ کر مذہبی زندگی اختیار کرلی۔
"میرا باپ ایک شکل اور بھیانک موت مرا، سویتلانا لکھتی ہے " یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے کسی شخص کو مرتے ہوئے دیکھا۔ ہیمورج آہستہ آہستہ اس کے دماغ کے بقیہ حصوں میں پھیل رہا تھا۔ چوں کہ اس کا دل صحت مند اور مضبوط تھا۔ اس نے سانس کے مرکز کو بتدریج متاثر کیا اور اس کی وجہ سے گلا گھٹنے کی سی کیفیت پیدا ہوگئی اس کی سانس کم سے کم ہوتی جارہی تھی۔ آخری بارہ گھنٹوں میں آکسیجن کی بڑی سنگین تھی۔ اس کا چہرہ بدل گیا اور کالا ہوگیا۔ اس کے ہونٹ بھی سیاہ پڑگئے اور شکل پہچاننی مشکل ہوگئی۔ آخری لمحات میں اس اوپر اختناق کی حالت طاری تھی۔ موت کی تکلیف ہولناک تھی۔ دیکھنے والے کو ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اس کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔
بالکل آخری لمحات میں اچانک اس نے آنکھ کھول دی اور کمرہ کے ہر شخص پر ایک نظر ڈالی۔ یہ دیکھنے کا منظر بھی بڑا بھیانک تھا۔ وہ پاگلوں سا ہنستا یا غصہ میں تھا۔ اس پر دہشت طاری تھی۔ شاید موت کے ڈر سے اور ڈاکٹروں کے نامانوس چہروں سے جو اس کے اوپر جھکے ہوئے تھے۔ اس کی نظر ایک سیکنڈ میں سب کے اوپر سے گزر گئی۔ تب ایک ہولناک اور ناقابل فہم واقعہ ہوا۔ جس کو آج تک نہ میں بھلا سکی ہوں اور نہ سمجھ سکی ہوں۔ اس نے اچانک اپنا دایاں ہاتھ اٹھایا جیسے وہ پر کسی چیز کی طرف اشارہ کرنا چاہتا تھا ۔ اور کوئی آتا ہوا عذاب ہم سب پر ڈال دینا چاہتا تھا۔ اشارہ ناقابل فہم تھا اور خوف سے بھرا ہوا تھا۔ کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ وہ کس کی طرف یا کس چیز کی جانب اشارہ کرنا چاہتا تھا۔ اگلے لمحہ ایک آخری کوشش کے بعد، جھٹکا ہوا اور جان اس کے جسم سے نکل گئی۔ (انڈین ایکسپریس ۱۲ ستمبر، ۱۹۶۷) غیر اسلامی زندگی یہ ہے کہ آدمی کی سرگرمیوں کا رخ دنیا کی طرف ہوجائے۔ اس کو اپنے مادی مفادات سے دلچسپی ہو، وہ اپنے دنیوی مستقبل کی تعمیر میں لگا ہوا ہو۔ ۔ وہ انہیں چیزوں کے لئے متحرک ہوتا ہو جس میں اس کے دنیوی معاملات درست ہوتے ہوں، جس میں اس کی شخصیت چمکتی ہو، جس میں اس کے احساس برتری کو تسکین ملتی ہو۔
اس کے برعکس اسلامی زندگی آخرت رخی زندگی (AKHIRAT ORIENTED LIFE) ہوتی ہے۔ مومن کی دلچسپیوں کا مرکز آخرت ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ اخروی مستقبل کی فکر میں رہتا ہے۔ اس کو خدا کے یہاں سرخرو ہونے کا شوق رہتا ہے نہ کہ دنیا میں اپنی امیج بنانے کا۔ اس کی توجہ، اس کی تمنائیں، اس کی سرگرمیاں سب آخرت کے گھر کو بنانے کی طرف لگی رہتی ہیں۔ مختصر یہ کہ غیر مومن دنیا میں زندگی گزارتا ہے اور مومن آخرت میں۔ غیر مومن مرنے کے بعد اپنی آخرت کو دیکھے گا اور مومن دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کے عالم میں پہنچ جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues