ہم میں سے ہر شخص زندگی کے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۴
۷۱ء، میں یورپ کے ایک شہر میں تباہ کن زلزلہ آیا۔ چند روز بعد لوگوں نے دیکھا کہ ایک آدمی آواز لگا کر بھونچال روک گولی (ANTI-EARTHQUAKE PILL) بیچ رہا ہے۔ کسی نے پوچھا کہ تمہاری یہ گولی بھونچال کو کس طرح روکے گی ۔ اس نے فوراً جواب دیا :
BUT WHAT IS THE ALTERNATIVE:
(پھر دوسری صورت کیا ہے)۔ بھونچال روک گولی کا یہ کاروبار اگرچہ آگے نہیں بڑھا۔ وہ محض لطیفہ بن کر رہ گیا۔ مگر عجیب بات ہے کہ سب سے بڑے بھونچال (زلزلہ آخرت) کے لئے لوگوں نے اسی قسم کی گولیاں بنالی ہیں اور نہایت بڑے پیمانے پر اس کا کاروبار ساری دنیا میں ہورہا ہے۔
بھونچال روک گولی کے ایک بہت بڑے مبلغ لکھتے ہیں :
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جو مسلمان ان کا اہتمام کرلے ، جنت میں داخل ہو اور وہ دونوں بہت معمولی چیزیں ہیں۔ مگران پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں۔ ایک یہ کہ سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر ہر نماز کے بعد دس دس مرتبہ پڑھ لیا کرے تو روزانہ ایک سو پچاس مرتبہ (پانچوں نمازوں کے بعد کا مجموعہ) ہو جائے گا اور دس گنا ہو جانے کی وجہ سے1500 نیکیاں حساب میں شمار کی جائیں گی۔ اور دوسری چیز یہ کہ سوتے وقت اللہ اکبر 33 مرتبہ ، الحمد للہ ۳۳ مرتبہ ، سبحان اللہ ۳۳ مرتبہ پڑھ لیا کرے تو 100 اکیلے ہو گئے جس کا ثواب دس گنا بڑھ کر ایک ہزار نیکیاں ہوگئیں۔ اب ان کی اور دن بھر کی نمازوں کے بعد کی میزان کل دو ہزار پانچ سو نیکیاں ہو گئیں۔ بھلا اعمال تولنے کے وقت ڈھائی ہزار برائیاں روزانہ کی کس کی ہوں گی جو ان پر غالب آجائیں (۱۳۳) “ ایک حدیث میں ارشاد نبوی ہے کہ کوئی شخص تم میں سے اس بات کو نہ چھوڑے کہ ہزار نیکیاں روزانہ نہ کریا کرے ۔ سبحان اللہ و بحمدہ سو مرتبہ پڑھ لیا کرے۔ (دس گنا بڑھ کر یہ ہزار نیکیاں ہو جائیں گی اتنے گناہ تو انشاء اللہ روزانہ کے ہوں گے بھی نہیں۔ اور اس تسبیح کے علاوہ جتنے نیک کام کے ہوں گے ان کا ثواب علیحدہ نفع میں رہا۔ “ (۱۳۴)
مغفرت کا معاملہ اگر اس قسم کے سادہ حساب کا معاملہ ہوتا تو صحابہ کا یہ حال نہ ہوتا کہ وہ آخرت کے خوف سے بے قرار رہتے اور یہ کہتے کہ کاش میں ایک تنکا ہوتا ، کاش میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔ اس قسم کا عجیب و غریب اسلام اس لئے وجود میں آیا کہ ذکر کو درد کے ہم معنی سمجھ لیا گیا۔ اب گناہ اور ثواب دونوں گنتی کی چیز بن گئے اور یہ ممکن ہو گیا کہ ایک گنتی کی کمی کو دوسری گنتی کی زیادتی سے برابر کر لیا جائے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ذکر کوئی شمارتی چیز نہیں۔ ذکر اپنی شعوری ہستی کا نذرانہ ہے۔ بندہ جب اپنے رب کو اس کی تمام عظمتوں کے ساتھ پالیتا ہے تو اس کا پورا وجود اس کی یاد میں غرق ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام ذکر ہے۔ یہ ذکر آدمی کے اندر قناعت یا بے خوفی پیدا نہیں کرتا ، بلکہ وہ آدمی کو خوف و دہشت سے بھر دیتا ہے۔ خدا کے جلال و جبروت کی یاد جس کے اندر بے خوفی کی نفسیات پیدا کرے ، اس نے خدا کو یاد ہی نہیں کیا۔ اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ بندہ جب خدا کو یاد کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بے اختیار پکار اٹھتا ہے۔ خدایا ہم کو آگ کے عذاب سے بچا (رَبَّنَا فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ، آل عمران)
‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues